Tafsir As-Saadi
46:17 - 46:19

اور وہ جس نے کہا اپنے والدین سے اف ہے تم دونوں پر، کیا تم دونوں وعدہ دیتے ہو مجھے یہ کہ نکالا جاؤ ں گا میں(قبر سے)حالانکہ گزر چکی ہیں(بہت سی) امتیں مجھ سے پہلے، جبکہ وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے، ہلاک ہو جائے تو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس وہ کہتا ہے: نہیں ہے یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (17) یہ وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہو گئی ان پر بات (عذاب کی) ، ان امتوں میں جو گزر چکیں پہلے ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بے شک وہ تھے خسارہ پانے والے (18) اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں (مطابق) اس کےجو عمل کیے انھوں نے اور تاکہ پورا دے ان کو (اللہ بدلہ) ان کے اعمال کا، اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(19)

[17] اللہ تبارک و تعالی نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ قَالَ لِوَالِدَيۡهِ﴾ ’’اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے صادر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا:﴿ اُفٍّ لَّـكُمَاۤ﴾ یعنی ہلاکت ہو تمھارے لیے اور اس دعوت کے لیے جسے تم پیش کرتے ہو،پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا، اور کہا:﴿ اَتَعِدٰؔنِنِيۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ﴾ کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا ﴿ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِيۡ﴾’’حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاندِ حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔﴿ وَهُمَا﴾ یعنی اس کے والدین ﴿ يَسۡتَغِيۡثٰنِ﴾ اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ﴾ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لیے انتہائی جدوجہد اور پوری کوشش کر رہے تھےحتی کہ اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لیے پکارتا ہے۔وہ اس طرح اللہ تعالی سے سوال کر رہے تھے، جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لیے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:﴿ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا ﴿ فَيَقُوۡلُ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ یعنی جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر ان کو وحی ہی کیا ہے۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جناب محمد مصطفیﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے؟
[18]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ﴾ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔‘‘ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔
[19]﴿ وَلِكُلٍّ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا﴾ خیر اور شرکے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے اپنے درجہ پر ہو گا۔بنابریں فرمایا: ﴿وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔