قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے(1) اور دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے(2) اور اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو(3) بلاشبہ تمھاری کوشش البتہ مختلف ہے(4) پس لیکن جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا(5) اور اس نے تصدیق کی (نیک) بات کی(6) تو یقیناً ہم توفیق دیں گے اس کو آسان (راستے) کی(7) اور لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا(8) اور اس نے جھٹلایا نیک بات کو(9) تو یقیناً ہم آسان کر دیں گے اس کے لیے تنگی کا (راستہ)(10) اور نہیں فائدہ دے گا اس کو اس کا مال جب وہ (جہنم میں) گرے گا (11) بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے ہدایت دینا (12) اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (13) پس ڈرا دیا ہے میں نے تمھیں ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے (14) نہیں داخل ہو گا اس میں مگر بڑا بد بخت ہی (15) وہ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی (16) اور ضرور دور رکھا جائے گا اس سے بڑا پرہیز گار (17) وہ جو دیتا ہے اپنا مال (تاکہ) وہ پاک ہو (18)اور نہیں ہے کسی کا بھی اس کےہاں کوئی احسان کہ وہ (اس کا) بدلہ دیا جا رہا ہو(19) مگر صرف چاہنے کے لیے رضامندی اپنے رب برتر کی (20) اور یقیناً عنقریب وہ (اللہ) راضی ہو جائے گا (21)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰى ﴾ ’’رات کی قسم! جب وہ چھپائے۔‘‘ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ ﴿ وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى ﴾ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہو جائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہو جائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے۔
[3]﴿ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰۤى﴾ یہاں اگر مَا موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر مَامصدر یہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں، جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے، نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہو جائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ.
[4]﴿اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰى﴾ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔
[7-5] بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : ﴿فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى ﴾ ’’تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔‘‘ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّقٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰى ﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔‘‘ یعنی اس نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں ، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔
[10-8]﴿ وَاَمَّا مَنۢۡ بَخِلَ ﴾ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا، انفاق واجب و مستحب کو ترک کر دیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا ﴿ وَاسۡتَغۡنٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز بنا رہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کر دیا، نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔ ﴿ وَؔكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی۔ ﴿ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰى ﴾ ’’تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں بھی ہو گی، اس کے لیے آسان کر دی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
[11]﴿ وَمَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ ﴾ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔
[12]﴿ اِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدٰؔى﴾ ’’بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔
[13]﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔
[16-14]﴿ فَاَنۡؔذَرۡتُكُمۡ۠ نَارًا تَلَظّٰى﴾ میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا يَصۡلٰىهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ كَذَّبَ ﴾ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا۔
[21-17]﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾ ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو تو ہم اسے بچالیں گے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب، ترک واجب، مثلاً: قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر رہا ہے اور اس پر واجب فوت ہو رہا ہے۔ ﴿ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰۤى﴾ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے اس نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے، پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیرخواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق tہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر tکے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہوحتیٰ کہ رسول اللہﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی) احسان نہ تھا ، البتہ بحیثیت رسول احسان تھا، جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان، ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہے۔ یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جا سکتا ہے نہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم جو بھی ان اوصاف فاضلہ سے متصف ہو گا، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمہ باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى ۚ۰۰وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴾ ’’وہ صرف اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔‘‘ یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہو گا جو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرے گا۔