Tafsir As-Saadi
94:1 - 94:8

کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔
[5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔
[7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔