قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔
[4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔
[5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔
[7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔