بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔
[2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔
[3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔
[4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘
[5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔