اور پھسلایا اس نے اس کو کہ تھا وہ (یوسف) اس کے گھر میں ، اس کے نفس سےاور بند کر دیے اس (عورت) نے دروازےاور کہا،لو آجاؤ! یوسف نے کہا، اللہ کی پناہ! وہ (عزیز) تو میرا آقا ہے، اچھا کیا اس نے میرا ٹھکانا، بے شک نہیں فلاح پاتے ظالم لوگ (23) اور البتہ تحقیق ارادہ کیا اس عورت نے یوسف کا اور وہ بھی ارادہ کر لیتا اس کا اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ لی تھی اس نے برہان اپنے رب کی، اسی طرح (اسے برہان دکھائی) تاکہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بے حیائی کو، بے شک یوسف ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں میں سے تھا (24) اور دوڑے وہ دونوں دروازے کواور پھاڑ دی اس نے قمیص یوسف کی پیچھے سےاور پایا دونوں نے اس کے خاوند کو نزدیک دروازے کے، کہا اس عورت نے، کیا سزا ہے اس کی جو ارادہ کر ے تیری بیوی سے برائی کا، سوائے اس کے کہ وہ قید کیا جائے یا (دیا جائے) عذاب درد ناک (25) یوسف نے کہا، اسی نے ورغلایا مجھے میرے نفس سے اور گواہی دی ایک شاہد نے اس عورت کے خاندان میں سے کہ اگر ہے قمیص یوسف کی پھٹی ہوئی آگے (کی طرف) سے تو وہ عورت سچی ہے اوریوسف جھوٹوں میں سے ہے (26) اور اگر ہے قمیص یوسف کی پھٹی ہوئی پیچھے سے تو جھوٹی ہے وہ عورت اور یوسف سچوں میں سے ہے (27) پھر جب دیکھی عزیز نے اس کی قمیص کہ وہ پھٹی ہوئی تھی پیچھے سے تو کہا عزیز نے، بے شک یہ تم عورتوں کے مکرو فریب سے ہے، بلاشبہ تم عورتوں کا مکروفریب بہت بڑا ہے (28)اے یوسف! درگزر کر اس (بات) سےاور (بیوی سے کہا) تو مغفرت طلب کر واسطے اپنے گناہ کے، بلاشبہ تو ہی ہے خطا کاروں میں سے (29)
[24,23] اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسفu عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کامل حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ ﴿وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِيۡ هُوَ فِيۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔‘‘ یعنی یوسفu جس عورت کے غلام اور اس کے زیردست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ ﴿وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ ﴾ ’’اس نے دروازے بند کر دیے‘‘ اور مکان خالی ہو گیا اور دروازوں کو بند کر دینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈر نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسفu کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ ﴿وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَ﴾ ’’کہنے لگی، جلدی آؤ۔‘‘ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سرانجام دو۔اس کے باوجود کہ یوسفu ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے غلام تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسفu خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف (u)نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انھیں قید خانے میں بھجوا دے گی یا انھیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گی۔مگر بایں ہمہ، جناب یوسفu اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے کیونکہ جس فعل کا ارادہ انھوں نے کر لیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انھیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کر دیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔﴿قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی پناہ‘‘ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کر دیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں ۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسفu نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دیا وہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفu کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جاگزیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا… اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسفu سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیا تھا کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کر لیا اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر دی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کر دیا۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔
[25] جب حضرت یوسفu اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کی پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دونوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انھوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعویٰ کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی: ﴿ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡٓءًا﴾ ’’اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے‘‘ اور یہ نہیں کہا ﴿من فعل باهلك سوء ا﴾ ’’جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی‘‘ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسفu کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔‘‘
[26] یوسفu نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا:﴿هِيَ رَاوَدَتۡنِيۡ عَنۡ نَّفۡسِيۡ﴾ ’’اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا۔‘‘ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں ۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنھیں بسااوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چنانچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسفu کی براء ت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کر دیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا:﴿ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔
[27]﴿ وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسفu کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسفu پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔
[28]﴿ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ ﴾ ’’پس جب عزیز مصر نے ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا‘‘ تو اسے جناب یوسفu کی صداقت اور ان کی براء ت کا یقین ہوگیا، نیز یہ کہ عورت جھوٹی ہے تو عورت کے شوہر نے اس سے کہا:﴿اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ﴾ ’’یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا، یقینا تمھارا فریب بڑا ہے‘‘ اس سے بڑھ کر کوئی اور فریب ہو سکتا ہے کہ اس عورت نے بدی کا ارادہ کیا، اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی پھر اپنے آپ کو بری قرار دے کر اپنا کرتوت اللہ تعالیٰ کے نبی جناب یوسفu کے سر تھوپ دیا۔
[29] جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسفu سے کہا ﴿ يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’یوسف! جانے دو اس ذکر کو‘‘ یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿وَاسۡتَغۡفِرِيۡ﴾ ’’اے عورت! بخشش مانگ‘‘ ﴿ لِذَنۢۡبِكِ١ۖ ۚ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِــِٕيۡنَ ﴾ ’’اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی‘‘ اس شخص نے یوسفu کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔