Tafsir As-Saadi
12:58 - 12:68

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔
[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’کیا دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں ۔‘‘ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں ۔
[60] پھر حضرت یوسفu نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِيۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴾ ’’پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا‘‘ یہ بات حضرت یوسفu نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
[61]﴿ قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے‘‘ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوبu بنیامین سے بے حد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسفu کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لیے تسلی کا باعث تھے۔ اس لیے یوسفu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ﴿ وَاِنَّا لَفٰعِلُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔‘‘ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔
[62]﴿وَقَالَ ﴾ یوسفu نے فرمایا: ﴿ لِفِتۡيٰنِهِ﴾ ’’اپنے خدام سے۔‘‘ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ ﴿ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ ﴾ ’’رکھ دو ان کی پونجی‘‘ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انھوں نے اناج خریدا تھا۔ ﴿ فِيۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ۠ ﴾ ’’ان کے اسباب میں ، شاید وہ اس کو پہچان لیں ‘‘ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انھوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاووں میں دیکھیں گے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَؔ ﴾ ’’شاید یہ پھر یہاں آئیں۔‘‘ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لیے مصر واپس آئیں ۔ظاہر ہے یوسفu نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹا دی تھی کہ اس کی واپسی کا انھیں پتہ بھی نہ چلا کیونکہ احسان انسان کے لیے واجب ٹھہراتا ہے کہ محسن کے لیے پوری وفاداری کی جائے۔
[63]﴿ فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ﴾ ’’پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ‘‘ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ ﴿ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ﴾ ’’پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں ‘‘ یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لیے سبب بن سکے، پھر انھوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا:﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ۔‘‘ یعنی ہم کسی ناخوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔
[64]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰۤى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’کیا میں تمھارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا؟‘‘ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کر چکے ہو۔ بایں ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمھارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ ﴿ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا١۪ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کر کے اسے میرے پاس واپس لائے گا۔ گویا انھوں نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے کے لیے اپنی گفتگو میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔
[65]﴿ وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو انھوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کر دیا گیا ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ یوسفu نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ انھوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا : ﴿ يٰۤاَ بَانَا مَا نَبۡغِيۡ﴾ ’’اباجان! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔‘‘ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جبکہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لوٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ هٰؔذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا١ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا ﴾ ’’یہ ہے ہماری پونجی جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے، اب جائیں تو غلہ لے کر آئیں اپنے گھر والوں کے لیے‘‘ یعنی جب ہم اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جائیں گے تو ہم اس کے حصے کا غلہ حاصل کر سکیں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لا سکیں گے کیونکہ وہ خوراک کے سخت محتاج ہیں ۔ ﴿ وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ﴾ ’’اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے‘‘ یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ ملے گا کیونکہ ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیا جاتا تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہ بھرتی آسان ہے‘‘ یہ بڑا آسان سا کام ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ کوئی زیادہ لمبی مدت نہیں اور اس میں جو مصلحت ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے۔
[66]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰى تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’میں ہرگز اس کو تمھارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا‘‘ یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ ﴿ لَتَاۡتُنَّنِيۡ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡ﴾ ’’کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب‘‘ یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمھیں پیش آجائے جس پر تمھارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ ﴾ ’’پس جب انھوں نے ان سے عہد کرلیا۔‘‘ یعنی جب یعقوبu کی خواہش کے مطابق انھوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’حضرت یعقوب نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی حفاظت اور اس کی کفایت ہمارے لیے کافی ہے۔
[67] پھر جب یعقوبu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو ﴿ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۢۡ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ﴾ ’’ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں ‘‘ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے ﴿ وَمَاۤ اُغۡنِيۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا‘‘ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جا چکی ہے وہ ہو کر رہے گی۔ ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ ’’حکم تو اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی فیصلہ وہی ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے اور حکم وہی ہے جو اس کا حکم ہے۔ پس جس چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر دے وہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ﴾ ’’اسی پر میرا بھروسہ ہے‘‘ یعنی جن اسباب کو اختیار کرنے کی میں نے تمھیں وصیت کی ہے، میں اس پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ ﴿وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَؔكِّلُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے‘‘ کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور توکل ہی کے ذریعے سے ہر خوف کو دور کیا جاتا ہے۔
[68]﴿ وَلَمَّا﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب وہ روانہ ہوگئے۔ ﴿ دَخَلُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَهُمۡ اَبُوۡهُمۡ١ؕ مَا كَانَ يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيۡ نَفۡسِ يَعۡقُوۡبَ قَضٰىهَا﴾ ’’(اور) داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو حکم دیا تھا، (ان کا یہ فعل) ان کو اللہ کی کسی بات سے نہ بچا سکتا تھا مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں ، سو وہ اس نے پوری کر لی۔‘‘ اور وہ تھا اولاد کے لیے شفقت اور محبت کا موجب، ایسا کرنے سے ان کو ایک قسم کا اطمینان حاصل ہوگیا تھا اور ان کے دل میں جو خیال گزرا تھا وہ بھی پورا ہوگیا اور یہ یعقوبu کے علم کی کوتاہی نہیں کیونکہ وہ انبیائے کرام اور علمائے ربانی میں سے تھے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے یعقوبu کی مدافعت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ ﴾ ’’وہ علم عظیم کے مالک تھے۔‘‘ ﴿ لِّمَا عَلَّمۡنٰهُ﴾ ’’کیونکہ ہم نے ان کو تعلیم دی تھی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی قوت و اختیار سے اس کا ادراک نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا عطا کردہ علم کارفرما تھا۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی مگر اکثر لوگ معاملات کے انجام اور اشیاء کی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اسی طرح اہل علم پر بھی علم، احکام اور اس کے لوازم میں سے بہت کچھ مخفی رہ جاتا ہے۔