اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط پہاڑ تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) تمھیں لے کراور (بنائیں اس میں ) نہریں اور راستے تاکہ تم راہ پاؤ (15) اور (بنائیں ) نشانیاں (بھی) اور ساتھ ستاروں کے بھی وہ راہ پاتے ہیں (16)
[16,15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلۡقٰى ﴾ ’’اور رکھ دیے اس نے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی خاطر ﴿ فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’زمین میں بوجھ‘‘ اس سے مراد بڑے بڑے پہاڑ ہیں تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے اور تاکہ زمین پر کھیتی باڑی کر سکیں ، اس پر عمارتیں بنا سکیں اور اس پر چل پھر سکیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے زمین پر دریاؤں کو جاری کر دیا، وہ ان دریاؤں کو دوردراز زمین سے بہا کر اس زمین تک لاتا ہے جو ان کے پانی کی ضرورت مند ہے تاکہ وہ خود، ان کے مویشی اور کھیت سیراب ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ دریا سطح زمین پر اور کچھ دریا سطح زمین کے نیچے جاری کیے، لوگ کنویں کھودتے ہیں یہاں تک کہ وہ زیر زمین بہنے والے دریاؤں تک پہنچ جاتے ہیں تب وہ رہٹ اور دیگر آلات کے ذریعے سے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مسخر کر دیا ہے… ان زمینی دریاؤں (کے پانی) کو باہر نکالتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے کراں رحمت ہی ہے کہ اس نے زمین میں تمھارے لیے راستے بنا دیے جو دوردراز شہروں تک لے جاتے ہیں ۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ﴾ شاید کہ تم ان راستوں کے ذریعے سے اپنی منزل مقصود کو پالو، حتیٰ کہ تم ایسا علاقہ بھی پاؤ گے جو پہاڑوں کے سلسلے سے گھرا ہوا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں لوگوں کے لیے درے اور راستے بنا دیے ہیں ۔