اور اسی طرح دوبارہ اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ وہ سوال کریں آپس میں ، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، کتنا (عرصہ) ٹھہرے ہو تم؟ انھوں نے کہا، ٹھہرے ہیں ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، انھوں نے کہا، تمھارا رب خوب جانتا ہے جتنا ٹھہرے ہو تم، پس بھیجو تم اپنے ایک آدمی کو ساتھ اپنی اس چاندی کے، شہر کی طرف، پس چاہیے کہ دیکھے وہ کون سا ان میں زیادہ پاکیزہ ہے کھانا، پھر چاہیے کہ لے آئے وہ تمھارے پاس کھانا اس میں سےاور چاہیے کہ وہ نرمی (سے بات) کرےاور نہ آگاہ کر دے وہ تمھارے معاملے سے کسی کو (19) بلاشبہ وہ اگر مطلع ہو گئے تم پر تو سنگسار کر دیں وہ تمھیں یا لوٹا دیں گے تم کو اپنے دین میں اور ہرگز نہیں فلاح پاؤ گے تم اس وقت کبھی بھی (20)
[19]﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا ﴿ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں ۔‘‘ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں ۔ ﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ١ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، تم کتنی مدت ٹھہرے؟ انھوں نے کہا، ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔‘‘ یہ قائل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کواپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہو گیا تھا، اس لیے ﴿ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا تمھارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے‘‘ پس انھوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف لوٹا دیا جس کا علم اجمالاً اور تفصیلاً ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے ان کو مطلع کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیدار کردیاتھا تاکہ وہ اس مدت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور اپنے اپنے مبلغ علم کے مطابق انھوں نے کلام کیا اور ان کی آپس میں بحث کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کے سونے کی مدت کا معاملہ مشتبہ ہی رہا۔ یہ لازمی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یقینی طور پر آگاہ کیا ہو گا اور ہمیں یہ بات ان کے بیدار كيے جانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت سے معلوم ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو کوئی ان معاملات میں حقیقت کا طلب گار ہوتا ہے جن کا جاننا مطلوب ہے اور اس کے لیے امکان بھر کوشش بھی کرتا ہے تواللہ تعالیٰ ان معاملات کو اس پر واضح کر دیتا ہے اور بعد میں مذکور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا﴾(الکہف:18؍21) ’’اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور بے شک قیامت کی گھڑی ضرور آئے گی۔‘‘ اگر ان کے حال کے بارے میں آگاہی نہ ہوئی ہوتی تو ان کے لیے مذکورہ واقعہ میں کوئی دلیل نہ ہوتی، پھر جب انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور ان کے درمیان وہ سوال جواب ہوا جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو کچھ سکے، یعنی دراہم دے کر، جو ان کے پاس تھے، کھانا خرید کر لانے کے لیے اس شہر میں بھیجا جہاں سے وہ نکل کر آئے تھے اور اس سے کہا کہ وہ اچھا اور لذیذ ترین کھانا منتخب کر کے لائے، نیز وہ اپنے شہر جانے، کھانا خریدنے اور واپس لوٹنے میں ایسا نرم رویہ اختیار کرے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو بھی چھپائے اور اپنے بھائیوں کے حال کو بھی مخفی رکھے اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔
[20] ان کے سامنے یہ اندیشہ تھا کہ لوگوں کو اگر ان کی اطلاع ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ ان دو امور میں سے ایک ہو گا۔ یا تو وہ ان کو سنگسار کر کے نہایت برے طریقے سے ان کو قتل کردیں گے کیونکہ انھیں ان پر اور ان کے دین پر سخت غصہ ہے۔ یا انھیں تعذیب اور آزمائش میں مبتلا کر کے ان کو اپنے دین میں واپس لانے کی کوشش کریں گے اور اس حال میں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے بلکہ وہ اپنے دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں سخت خسارے میں رہیں گے۔یہ دو آیات کریمہ متعدد فوائد پر دلالت کرتی ہیں :(۱) حصول علم اور علمی مباحثہ پر ترغیب کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی خاطر اصحاب کہف کو دوبارہ زندہ کیا۔ (۲) جب بندے پر علم مشتبہ ہو جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ وہ اس علم کو اس شخص کی طرف لوٹا دے جو اس کا عالم ہے اور خود اپنی حد پر ٹھہر جائے۔ (۳) خریدوفروخت میں وکالت اور اس میں شراکت صحیح ہے۔ (۴) اچھی چیزیں اور لذیذ کھانے کھانا جائز ہے جبکہ ان میں اسراف نہ ہو جو ممنوع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں سے ملتا ہے پس وہ تمھارے لیے وہیں سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے۔‘‘ خاص طور پر جبکہ انسان کو اس کے سوا کوئی اور کھانا موافق نہ آتا ہو۔ شاید یہی آیت کریمہ ان مفسرین کے قول کی بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کھانا لانے والے کو اچھا اور لذیذ کھانا لانے کا حکم دیا تھا کیونکہ خوشحال اور بڑے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اچھا کھانا تناول کرتے ہیں ۔ (۵) جب دین میں ابتلا اور فتنہ کا موقع ہو تو اس سے بچنے، چھپنے اور فتنوں کی جگہوں سے دور رہنے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز یہ کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے دینی بھائیوں کو چھپائے۔ (۶) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو دین میں شدید رغبت تھی وہ اپنے دین کے بارے میں ہر قسم کے فتنہ سے دور بھاگتے تھے اور انھوں نے دین کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا۔ (۷) ان آیات کریمہ میں اس شر کا ذکر ہے جو ضرر اور ان مفاسد پر مشتمل ہے جو اس کی ناپسندیدگی کا باعث اور اس کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور یہ کہ یہ طریقہ تمام متقدمین اور متاخرین اہل ایمان کا طریقہ ہے کیونکہ اہل کہف نے کہا تھا: ﴿ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ اگر وہ تمھیں اپنی ملت میں واپس لوٹا دیں تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔