Tafsir As-Saadi
18:47 - 18:49

اور جس دن چلائیں گے ہم پہاڑوں کو اور آپ دیکھیں گے زمین کو صاف کھلی ہوئی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو، پس نہ چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی کو (47) اور پیش کیے جائیں گے وہ آپ کے رب پر صفیں بنائے ہوئے (کہا جائے گا) البتہ تحقیق آئے ہو تم ہمارے پاس جیسے پیدا کیا ہم نے تمھیں پہلی باربلکہ تم تو خیال کرتے تھے کہ ہرگز نہیں مقرر کریں گے ہم تمھارے لیے وعدہ گاہ (48)اوررکھے جائیں گے نامۂ اعمال، پس دیکھیں گے آپ مجرموں کو کہ وہ ڈرنے والے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہےاور کہیں گے، ہائے ہماری کم بختی! کیاہے اس نامۂ اعمال کو نہیں چھوڑ رہا کسی چھوٹے (عمل) کو اور نہ بڑے کو مگر اس نے شمار کر رکھا ہے اس کو،اور وہ پائیں گے ، جو عمل کیے تھے انھوں نے، حاضر۔ نہیں ظلم کرے گاآپ کا رب کسی پر بھی (49)

[48,47] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ ﴾ ’’اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر ان کو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گے اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے اجزا بکھر چکے ہوں گے اور وہ پارہ پارہ ہو چکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ پس لوگ صفیں باندھے اس کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ان سے جوابدہی کرے، ان کے اعمال دیکھ کر ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا جس میں کوئی ظلم وجور نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:﴿لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہوگئے ہو، جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی لوگ مال و متاع، اہل و عیال اور قبیلے کنبے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف وہی اعمال ہوں گے جو وہ کرتے رہے تھے اور نیکی اور بدی ساتھ ہو گی جس کا اکتساب کرتے رہے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ١ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہو گئے ہو جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا اورجو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا تھا تم اسے اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہمیں تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی بھی نظر نہیں آتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں ۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین آخرت سے مخاطب ہو کر فرمائے گا جبکہ وہ اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر لیں گے: ﴿ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَكُمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’لیکن تم نے یہ خیال کررکھا تھا کہ ہم نے تمھارے لیے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم اعمال کی سزا و جزا کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ اس جزا و سزا کا وعدہ کر رکھا تھا، لو! اس کا وعدہ آ گیا تم نے اسے دیکھ لیا اور اس کا مزا چکھ لیا۔
[49] اس وقت وہ ا عمال نامے حاضر كيے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین لکھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں تو بول اٹھیں گے: ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا ﴾ ’’ہائے افسوس! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو مگر اس نے ان کو شمار کر لیا۔‘‘ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلا یا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔ ﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا﴾ ’’اور پائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا، سامنے۔‘‘ وہ اس کا انکار نہیں کر سکیں گے ﴿ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾ ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾(آل عمران:3؍182، الانفال:8؍51) ’’یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔‘‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔