Tafsir As-Saadi
2:13 - 2:13

اور جب کہا جاتا ہے ان سے، ایمان لاؤ،جیسے ایمان لائے لوگ تو کہتے ہیں:کیا ایمان لائیں ہم جیسے ایمان لائے بے وقوف؟ خبردار! بلاشبہ وہی ہیں بے وقوف لیکن وہ نہیں جانتے(13)

[13] یعنی جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ یعنی جیسے صحابہ کرامyایمان لائے ہیں جو کہ قلب و زبان کا ایمان ہے تو یہ اپنے زعم باطل میں جواب دیتے ہیں ’’کیا ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟‘‘ ان کا برا ہو۔ بیوقوف لوگوں سے ان کی مراد صحابہ کرامyہیں، کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق صحابہ کرامyکی بیوقوفی اور حماقت ہی ان کے ایمان، ترک وطن اور کفار سے دشمنی مول لینے کی موجب ہے۔ ان کے نزدیک عقل اس کے متضاد اور برعکس رویے کا تقاضا کرتی ہے۔ بنا بریں انھوں نے صحابہ کرامyکو سفاہت و حماقت سے منسوب کیا۔ ضمنی طور پر اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ صرف وہی عقل مند اور اصحاب دانش و بینش ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے خبر دی کہ درحقیقت وہی بیوقوف اور احمق ہیں۔ کیونکہ بیوقوفی کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے مصالح سے بے خبر اور ایسے کاموں میں سرگرم ہو جو اس کے لیے ضرر رساں ہوں اور یہ صفت ان منافقین ہی پر منطبق ہوتی ہے۔ اور عقل اور دانش و بینش یہ ہے کہ انسان کو اپنے مصالح کی معرفت حاصل ہو اور وہ فائدہ مند امور کے حصول اور ضرر رساں امور کو روکنے کے لیے کاوش کرے۔ یہ صفت صحابہ کرامyاور اہل ایمان پر منطبق ہوتی ہے۔ پس (کسی چیز کا) اعتبار مجرد دعوے اور خالی خولی باتوں سے نہیں ہوتا بلکہ اوصاف اور دلائل کی بنا پر ہوتا ہے۔