Tafsir As-Saadi
2:89 - 2:90

اور جب آگئی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے اور تھے وہ پہلے اس سے فتح مانگتے خلاف ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب آگیا ان کے پاس وہ (حق) جس کو انھوں نے پہچان لیا تو کفر کیا انھوں نے ساتھ اس کے، سو لعنت ہے اللہ کی اوپر کافروں کے(89) بری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنے نفسوں کو، یہ کہ وہ کفر کرتے ہیں ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نے، حسد کرتے ہوئے اس سے کہ نازل کرے اللہ فضل اپنا اوپر جس کے چاہے اپنے بندوں میں سے، پس پھرے وہ ساتھ غضب کے اوپر غضب کےاور کافروں کے لیے ہے عذاب رسوا کن(90)

[90-89] مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺکے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آ گئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنھیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آ گیا جس کو انھوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (اور انھیں حسد اس بات پر تھا) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے۔ (اللہ نے یہ شرف نبوت ان کی بجائے، کسی اور کو کیوں دے دیا؟) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان پر سخت غضب ناک ہوا، کیونکہ کفر میں وہ بہت بڑھ گئے تھے اور متواتر شک اور شرک میں مبتلا چلے آ رہے تھے۔ اور ان کافروں کے لیے آخرت میں ﴿ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾ ’’رسوا کرنے والا عذاب ہو گا‘‘ اور وہ یہ کہ ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور دائمی نعمتوں سے وہ محروم ہوں گے۔ پس بہت برا ہے ان کا حال، بہت ہی برا ہے وہ معاوضہ جو انھوں نے اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے مقابلے میں حاصل کیا اور وہ یہ کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ، اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ حالانکہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور انھیں رسولوں کی صداقت کا بھی یقین تھا اسی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہو گا۔