Tafsir As-Saadi
40:1 - 40:3

حٰمٓ(1)اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا غالب خوب جاننے والا ہے(2) بخشنے والاہے گناہ کا اور قبول کرنے والا ہے توبہ کا، سخت سزا دینے والا ہے ، فضل والا، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی، اسی کی طرف ہے لوٹ کرجانا(3)

[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزِ ﴾ جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ﴿غَافِرِ الذَّنۢۡبِ ﴾ ’’وہ گناہ بخش دینے والا‘‘ گناہ گاروں کے ﴿وَقَابِلِ التَّوۡبِ ﴾ توبہ کرنے والوں کی ’’توبہ قبول کرنے والا‘‘ ﴿شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ جوگناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے ﴿ذِي الطَّوۡلِ ﴾ ’’فضل و احسان کامالک ہے‘‘ یعنی ایسا فضل واحسان جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال کو متحقق کر دیا اور یہ کمال اس حقیقت کا موجب ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود ہو جس کے لیے تمام اعمال خالص کیے جائیں، تو فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ ان اوصافِ حمیدہ سے موصوف اللہ تعالیٰ کی طرف سےقرآن مجید کے نازل ہونے کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ یہ اوصاف ان تمام معانی کو مستلزم ہیں جن پر یہ مشتمل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم یا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال ہیں یا گزشتہ زمانوں اور آنے والے واقعات کی خبر دیتا ہے اور یہ علیم کی طرف سے اپنے بندوں کی تعلیم ہے یا وہ اپنی عظیم نعمتوں اور جسمانی احسانات اور ان احسانات تک پہنچانے والے اوامر کی خبر ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿ذِي الطَّوۡلِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی اور ان معاصی کے بارے میں خبر ہے جو اس ناراضی کے موجب ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اس قرآن عظیم میں گناہ گاروں کو توبہ، انابت اور استغفار کی دعوت دی گئی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿غَافِرِ الذَّنۢۡبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اس میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے، اس پر عقلی و نقلی دلائل دیے گئے ہیں۔ اور اس مضمون کو بہت تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نیز قرآن کریم میں غیراللہ کی عبادت سے روکا گیا ہے، اس کے فساد پر عقلی و نقلی دلائل قائم کیے گئے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ڈرایا گیا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ہے۔ یا اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم جزائی، یعنی بھلائی کرنے والوں کے ثواب اور نافرمانوں کی سزا کے بارے میں خبر دی گئی ہے اور یہ حکم جزائی عدل پر مبنی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یہ تمام عالی شان مطالب و معانی ہیں جن پر قرآن مشتمل ہے۔