جو کوئی لائے گا نیکی اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس (نیکی) سے اور جو کوئی لائے گابرائی تو نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے مگر جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے (84)
[84] اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے کئی گنا زیادہ ہونے اور اپنے عدل کامل کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ اس میں شرط عائد کی گئی ہے کہ عامل نیکی کے ساتھ آئے کیونکہ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کوئی نیکی کرتا ہے اور اس نیکی کے ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی ہوتے ہیں جو قابل قبول نہیں ہوتے یا وہ اس نیکی کو باطل کر دیتے ہیں … تو یہ شخص درحقیقت نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر نہیں ہوتا۔ ﴿الۡحَسَنَةِ﴾’’نیکی‘‘ یہاں اسم جنس ہے جو ان تمام امور کو شامل ہے جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) نے حکم دیا ہے ، مثلاً: حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام اقوال اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر نیکی ملے گی‘‘ یعنی اس کی جزا زیادہ بڑی اور زیادہ جلیل القدر ہے ایک اور آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾(الانعام:6؍160) ’’اس کے لیے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں ۔‘‘نیکی کا اس طرح کئی گنا ہونا لازمی امر ہے۔ بسااوقات اس کے ساتھ کچھ اسباب مقرون ہوتے ہیں جو اس کو اور زیادہ کر دیتے ہیں : ﴿ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾(البقرۃ:2؍261)’’اللہ جس کی نیکیوں کو چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے، وہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ اور یہ اضافہ نیکی کرنے والے کے حال، اس کے اس نیک عمل، اس عمل کے فائدے اور اس کے محل و مقام کے مطابق ہوتا ہے۔﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو شخص برائی لے کر آئے‘‘ یہاں ﴿السَّيِّئَةِ ﴾ ’’برائی‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کو شارع نے حرام ٹھہرا کر اس سے روک دیا ہو ﴿ فَلَا يُجۡزَى الَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو برائیوں کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جس قدر انھوں نے کی ہوں گی‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا١ۚ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍160) ’’جو کوئی اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی ایک برائی لے کر حاضر ہو گا تو اس کو صرف اتنی ہی سزا ملے گی جتنی اس نے برائی کی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘