Tafsir As-Saadi
3:59 - 3:63

بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)

[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔