Tafsir As-Saadi
48:16 - 48:17

کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17)

[16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔