پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔