Tafsir As-Saadi
7:11 - 7:15

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)

[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘