اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔