Tafsir As-Saadi
8:26 - 8:26

اور یاد کرو جب تم (بہت) تھوڑے تھے، کمزور سمجھے جاتے تھے زمین میں، خوف کھاتے تھے تم اس بات سے کہ (کہیں) اچک (نہ) لے جائیں تمھیں لوگ، پس جگہ دی اللہ نے تمھیں اور تمھاری تائید کی ساتھ اپنی نصرت کےاور رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے تاکہ تم شکر گزار ہو(26)

[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں ‘‘ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ ﴾ ’’تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں اچک نہ لیں ‘‘ ﴿ فَاٰوٰىكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں تمھارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔