اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)
[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔
[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘
[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔