اور تابع کر دیے اس نے واسطے تمھارے رات اوردن اور سورج اورچانداور ستارے بھی تابع کر دیے گئے ہیں ساتھ اسی کے حکم کے، بے شک اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں (12)
[12] یعنی یہ تمام چیزیں تمھارے فوائد اور تمھارے مختلف مصالح کے لیے مسخر کی ہیں کیونکہ تم ان چیزوں سے کبھی بھی بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ رات کے وقت تم سوتے ہو، سکون اور آرام حاصل کرتے ہو، دن کے وقت تم اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر زمین میں پھیل جاتے ہو۔ سورج اور چاند سے تمھیں روشنی، نور اور اجالا حاصل ہوتا ہے، اس سے درختوں ، پھلوں اور نباتات کی اصلاح ہوتی ہے۔ زمین کی مختلف رطوبتوں میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس برودت کا ازالہ ہوتا ہے جو زمین اور حیوانی ابدان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے… اور اس قسم کی دیگر ضروریات و حوائج جن کا دارومدار سورج اور چاند کے وجود پر ہے۔ علاوہ ازیں چاند، سورج اور ستارے آسمان کی زینت ہیں ، بحروبر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستے تلاش کیے جاتے ہیں ، اوقات معلوم کیے جاتے ہیں اور زمانوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جن سے مختلف انواع کے دلائل حاصل ہوتے ہیں اور آیات میں تصرف ہوتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’بے شک ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں اور جس مقصد کے لیے یہ اشیاء بنائی اور تیار کی گئی ہیں اس میں غوروفکر اور تدبر کرتے ہوئے وہ اس عقل کو استعمال کرے ہیں اور عقل جس چیز کو بھی دیکھتی یا سنتی ہے اسے سمجھتی ہے۔ نہ کہ غافلوں کی مانند نظر رکھنا، جو دیکھنے سے اتنے ہی بہرہ ور ہوتے ہیں جتنے وہ جانور جو عقل و فہم سے عاری ہیں ۔