Tafsir As-Saadi
16:33 - 16:34

نہیں انتظار کرتے وہ مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے حکم آپ کے رب کا، اس طرح ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھےاور نہیں ظلم کیا تھا ان پر اللہ نے لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (33) پس پہنچی ان کو (جزاء) ان برائیوں کی جن کا ارتکاب انھوں نے کیااور گھیر لیا ان کو اس عذاب نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (34)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آئیں مگر وہ ایمان نہ لائے انھیں نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت نہ پکڑی… اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس آئیں ۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’یا تمھارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہو جائے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ انھوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے‘‘ یعنی جب ان پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ ان کا انجام اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا حصول ہو۔ پس انھوں نے ظلم کیا اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنے نفوس کو دائمی اہانت اور پیچھا نہ چھوڑنے والی بدبختی کے سامنے پیش کر دیا۔
[34]﴿ فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام‘‘ یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور الٹ پڑا ان پر‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے‘‘ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔