Tafsir As-Saadi
27:70 - 27:72

اور نہ غم کریں آپ ان پراورنہ ہوں آپ تنگی میں ان سے جو وہ (آپ کے خلاف) مکر کرتے ہیں (70) اور وہ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (71) کہہ دیجیے! امید ہے کہ قریب آ لگا ہو تمھارے، بعض وہ (عذاب) جسے تم جلدی طلب کر رہے ہو (72)

[70] یعنی اے محمد! (ﷺ)آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں ۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکروفریب کا برا انجام آخر کار انھی کی طرف لوٹے گا۔ ﴿ وَيَمۡؔكُرُوۡنَ وَيَمۡؔكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ ﴾(الانفال:8؍30)’’وہ چال چلتے ہیں ، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘
[71] آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ، عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
[72]﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَكُمۡ ﴾ یعنی ہو سکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آ گیا ہو اور ہو سکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ بَعۡضُ الَّذِيۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی وہ عذاب جس کے لیے تم جلدی مچاتے ہو۔