اور (یاد کیجیے) ابراہیم کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے، عبادت کرو تم اللہ کی اور ڈرو تم اس سے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (16)یقینا تم تو عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے بتوں کی اور گھڑتے ہو تم جھوٹ، بلاشبہ وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں اختیار رکھتے وہ تمھارے لیے رزق کا، پس تلاش کرو تم اللہ کے ہاں رزق اور عبادت کرو تم اس کی اور شکر کرو تم اس کا، اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (17)اور اگر جھٹلاؤ تم (مجھے) تو تحقیق جھٹلایا تھا کئی امتوں نے تم سے پہلے بھی اور نہیں ہے اوپر رسول کے مگر صرف پہنچا دینا واضح طور پر (18) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ کیسے پہلی بار پیدا کرتا ہے اللہ مخلوق کو؟ پھر وہ لوٹائے گا اس کو، بلاشبہ یہ ہے اللہ پر بہت آسان (19) کہہ دیجیے! سیر کروتم زمین میں ، پھر دیکھو تم کس طرح پہلی بار پیدا کی اس نے مخلوق، پھر اللہ ہی پیدا کرے گا (اس کو) پیدا کرنا دوسری بار، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (20) وہ عذاب دے گا جس کو چاہے گااور وہ رحم کرے گا جس پر چاہے گااور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے تم (21) اور نہیں تم عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم u کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چنانچہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو، صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمھیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ﴿وَاتَّقُوۡهُ﴾ ’’اور اس سے ڈرو‘‘ کہ وہ تم پر ناراض ہو، تمھیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امورکو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا باعث ہیں ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ ۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔یہ اسم تفضیل کے ایسے باب میں سے ہے جس کے دوسری طرف کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا تقویٰ ترک کرنے میں کسی طرح بھی کوئی بھلائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ صرف اس لیے لوگوں کے لیے بہتر ہے کہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی کرامت کا حصول، عبادت اور تقویٰ کے سوا ممکن نہیں ۔ دنیا و آخرت میں جو بھی بھلائی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اس کا علم رکھتے ہو۔‘‘ پس تمام امور میں خوب غور کرو اور دیکھو کہ ان میں سے کون سا امر ترجیح کے لائق ہے۔
[18,17] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے نقص اور عبودیت کے لیے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا وَّتَخۡلُقُوۡنَ اِفۡكًا﴾ ’’تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔‘‘ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو، پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لیے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔‘‘ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی مقتضی ہو۔ ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ لَكُمۡ رِزۡقًا ﴾ ’’وہ تمھیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا۔ پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں ۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں … پس ان کے جواب میں ، اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے۔ ﴿ فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰهِ الرِّزۡقَ ﴾’’پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔‘‘ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے اس سے دعا کرتا ہے۔﴿ وَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اور اسی (اکیلے) کی عبادت کرو‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل، نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ ﴿وَاشۡكُرُوۡا لَهٗ ﴾ اور اسی (اکیلے) کا شکر کرو‘‘ کیونکہ جتنی بھی تمھیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دور ہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے۔ ﴿ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمھیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔
[19]﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا كَيۡفَ يُبۡدِئُ اللّٰهُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اس کا اعادہ کرے گا۔ ﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک مخلوق کا اعادہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور ایسا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘
[20]﴿ قُلۡ ﴾ ’’آپ (ان سے) کہہ دیجیے!‘‘ کہ اگر انھیں ابتدائے تخلیق میں کوئی شک و شبہ ہے تو ﴿ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم زمین میں چلو پھرو‘‘ اپنے قلب و بدن کے ساتھ ﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ﴾ ’’پھر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ابتدا کی‘‘ تم دیکھو گے کہ انسانوں کے گروہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آ رہے ہیں ، تم دیکھو گے کہ درخت اور نباتات وقتاً فوقتاً جنم لے رہے ہیں ، تم بادلوں اور ہواؤں کو پاؤ گے کہ وہ لگاتار اپنی تجدید کے مراحل میں رہتے ہیں بلکہ تمام مخلوق دائمی طور پر ابتدائے تخلیق اور اعادۂ تخلیق کے دائرے میں گردش کر رہی ہے۔ ان کی موت صغریٰ … یعنی نیند … کے وقت، ان پر غور کرو کہ رات اپنی تاریکیوں کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیتی ہے تب تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جاتی ہیں ۔ اپنے بستروں اور ٹھکانوں میں تمام مخلوق کی حالت یوں ہوتی ہے جیسے وہ مردہ ہوں ۔ رات بھر وہ اس حالت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے تو وہ اپنی نیند سے بیدار اور اپنی اس عارضی موت کے بعد دوبارہ زندہ كيے جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہوئے اٹھتے ہیں :(اَلْحَمْدُ لِلٰہِ الَّذِي اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورِ) ’’تعریف ہے اللہ کی جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف قبر سے اٹھ کر جانا ہے۔‘‘بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ ہی‘‘ یعنی اس اعادۂ تخلیق کے بعد ﴿ يُنۡشِئُ النَّشۡاَةَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’دوسری نئی پیدائش کرے گا۔‘‘ یہ ایسی زندگی ہے جس میں موت ہے نہ نیند اس زندگی کو، جنت یا جہنم میں … خلود اور دوام حاصل ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی چیزمیں عاجز نہیں جس طرح وہ تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے اسی طرح تخلیق کے اعادہ پر اس کا قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
[21]﴿ يُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔‘‘ یعنی حکم جزائی میں وہ متفرد ہے، یعنی وہ اکیلا ہے جو اطاعت کرنے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے انھیں اپنی وسیع رحمت کے سائے میں لیتا ہے اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُقۡلَبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ یعنی تم اس گھر کی طرف لوٹو گے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے، اس لیے اس دنیا میں نیکیوں کا اکتساب کر لو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دور رہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں ۔
[22]﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’ اور تم اس کو زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں ۔‘‘ یعنی اے جھٹلانے والے لوگو جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو! یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل ہے یا تم زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکو گے۔ تمھاری قدرت واختیار تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ تمھارے نفس نے جن امور کو مزین کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کے بارے میں تمھیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ تمھیں دھوکے میں نہ رکھیں ۔ کائنات کے تمام گوشوں میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کر سکو گے ﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح حاصل ہوں ۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تمھاری مدد کرے اور تمھاری تکالیف کو دور کرے۔