Tafsir As-Saadi
29:24 - 29:25

پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے، تم قتل کر دو اسے یا جلا دو اسے پس نجات دی اس کو اللہ نے (اس) آگ سے بلاشبہ اس (نجات) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (24) اور کہا ابراہیم نے، یقینا ٹھہرایا ہے تم نے سوائے اللہ کے بتوں کو (معبود) آپس میں دوستی کی وجہ سے، زندگانیٔ دنیا میں ، پھر دن قیامت کے کفر (انکار) کرے گا بعض تمھارا بعض کااور لعنت کرے گا بعض تمھارا بعض کو اور ٹھکانا تمھارا آگ ہےاور نہیں ہو گا تمھارے لیے کوئی مدد گار (25)

[24] یعنی جب ابراہیمu نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیرخواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہنما ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔ ﴿ قَالُوا اقۡتُلُوۡهُ اَوۡ حَرِّقُوۡهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اسے مار ڈالو یا جلادو۔‘‘ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے، چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو آگ میں ڈال دیا ﴿ فَاَنۡؔجٰؔىهُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ایمان دار لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ پس وہ اہل ایمان اور انبیاء و رسل کی تعلیمات کی صحت، ان کی نیکی اور ان کی خیرخواہی اور انبیاء و رسل کے مخالفین و معارضین کے موقف کے بطلان کو خوب جانتے تھے۔ گویا رسولوں کے مخالفین ان کی تکذیب کی ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیا کرتے تھے۔
[25]﴿وَقَالَ ﴾ ابرہیمu نے، ان کے ساتھ خیرخواہی کی وجہ سے فرمایا:﴿ اِنَّمَا اتَّؔخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو، صرف دنیا میں باہم دوستی کے لیے۔‘‘ اس کی غایت و انتہا بس دنیا میں دوستی اور محبت ہے جو عنقریب ختم ہو جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کی دوستی کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘ تمام عابد اور معبود ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ ﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کرجائیں گے۔‘‘ تب تم ایسی ہستیوں سے کیونکر تعلق رکھتے ہو جو عنقریب اپنے عبادت گزاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔ ﴿ وَّ ﴾ ’’اور‘‘ بے شک یعنی عابدوں اور معبودوں ، سب کا ٹھکانا ﴿النَّارُ ﴾ ’’جہنم ہو گا‘‘ اور کوئی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا نہ ان سے اس کے عقاب کو دور کر سکے گا۔