کہہ دیجیے، اگر ہو تم محبت کرتے اللہ سے تو اتباع کرو میرا، محبت کرے گا تم سے اللہ، اور بخش دے گا واسطے تمھارے گناہ تمھارے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (31) کہہ دیجیے، اطاعت کرو تم اللہ کی اور اس کے رسول کی، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (32)
[32,31] اس آیت میں اللہ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات،اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو‘‘ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں، تو اس کے لیے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی اطاعت ہر حال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقائد میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔ پس جو رسول اللہﷺکی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔ جس نے رسول کی اتباع نہ کی وہ اللہ سے محبت رکھنے والا نہیں، کیونکہ اللہ کی محبت کا تقاضا رسولﷺکی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس صورت میں اگر وہ رسول سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع)کے بغیر ایسی محبت بے کار ہے۔ سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ کی محبت میں نقص ہوگا۔[32] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سب سے جامع حکم صادر فرمایا ہے۔ وہ ہے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اس میں ایمان اور توحید بھی شامل ہے اور اس کی شاخیں یعنی ظاہری اور باطنی اقوال و افعال بھی۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ گناہ سے پرہیز اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، یعنی اس کی اطاعت میں شامل ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں‘‘ یعنی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے اعراض کریں، تو دوسرا راستہ صرف کفر کا اور شیطان کی فرماں برداری کا ہے۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾(الحج:22؍4)’’اس کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ ہی کرے گا اور جہنم کے عذاب میں لے جائے گا۔‘‘ اس لیے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا‘‘بلکہ ان سے ناراض ہے، اور سخت ترین سزا دے گا۔ اس آیت مبارکہ میں اتباع رسول کی وضاحت ہے کہ اس کا طریقہ اللہ کے احکامات اور رسول کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ یہی حقیقی اتباع اور پیروی ہے۔ اس کے بعد فرمایا: