Tafsir As-Saadi
3:196 - 3:198

نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان لوگوں کا، جنھوں نے کفر کیا، شہروں میں(196)(یہ) فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور برا بچھونا ہے (وہ)(197) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے، ان کے لیے باغ ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، بطور مہمان نوازی کے اللہ کے پاس سےاور جو پاس ہے اللہ کے وہ بہتر ہے واسطے نیک لوگوں کے(198)

[196] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
[197]﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ﴾ ’’بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے‘‘ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
[198] اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اگر یہ مقدر کر لیا جائے کہ انھیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور تروتازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے‘‘ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انھیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔