تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)
[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔
[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔