Tafsir As-Saadi
3:162 - 3:163

کیا پس جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی، مانند اس شخص کے ہوگا جو لوٹا ساتھ ناراضی کے اللہ کی اور ٹھکانا اس کا جہنم ہے؟ اور وہ بری ہے جگہ لوٹنے کی(162) وہ (الگ الگ) درجوں پر ہوں گے اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھنے والا ہے ساتھ اس کے جو وہ کرتے ہیں(163)

[163,162] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم ، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہو سکتے ﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا يَسۡتَوٗنَ﴾(السجدۃ : 32؍18) ’’بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں‘‘ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انھیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فروترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔