Tafsir As-Saadi
43:66 - 43:73

نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)

[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا: