بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘
[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔