کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔
[30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔
[31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔