بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، اور مخالفت کی رسول (u) کی بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، ہرگز نہیں بگاڑ سکیں گے وہ اللہ کا کچھ بھی اور عنقریب وہ (اللہ) برباد کرے گا اعمال ان کے (32)
[32] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید ہے جس میں ہر قسم کا شر جمع ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ ﴿ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدٰؔى﴾ یعنی انھوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عناد رکھا، جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔؔا﴾’’اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔﴿ وَسَيُحۡبِطُ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا جو وہ باطل کی مدد کے لیے کر رہے ہیں، یعنی ان کو ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ان کے وہ اعمال جن پر انھیں ثواب کی امیدیں ہیں، قبولیت کی شرائط کے عدم وجود کی بنا پر قبول نہ کیے جائیں گے۔