محمد (ﷺ) رسول ہیں اللہ کے، اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں بہت سخت ہیں کافروں پر، نہایت مہربان ہیں آپس میں، تو دیکھے گا انھیں رکوع سجود کرتے ہوئے، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضامندی (اس کی)، علامت ان کی، ان کے چہروں میں ہو گا نشان سجدوں کا، یہ صفت ان کی تورات میں ہے، اور صفت ان کی انجیل میں مانند کھیتی کے ہے جس نے نکالی اپنی سوئی ، پھر اس نے مضبوط کیا اس (سوئی) کو، پھر وہ سخت ہوئی، پھر کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر، خوش کرتی ہے کاشتکاروں کو (اللہ نے یہ کیا) تاکہ غصہ دلائے بوجہ ان(صحابہ کرام)کے کافروں کو۔ وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ان میں سے، مغفرت اور اجر عظیم کا(29)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور ان کے صحابہ، جو مہاجرین و انصار میں سے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کامل ترین صفات اور جلیل ترین احوال کے حامل ہیں اور وہ ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ ﴾کفار کے ساتھ بہت سخت ہیں، فتح و نصرت میں جدوجہد اور اس بارے میں پوری کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ کفار کے ساتھ صرف درشتی اور سختی سے پیش آتے ہیں۔ اسی لیے ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل ہو گئے، ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمان ان پر غالب آ گئے۔﴿ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی صحابہ آپس میں محبت کرنے والے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے والے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور عاطفت کے ساتھ پیش آنے والے ہیں وہ جسد واحد کی مانند ہیں، ان میں سے ہر کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ہے ان کا مخلوق کے ساتھ معاملہ۔ رہا خالق کے ساتھ ان کا معاملہ، تو ﴿ تَرٰىهُمۡ رُؔكَّـعًا سُجَّدًا ﴾ ’’ تم ان کو رکوع اور سجدے کی حالت میں دیکھو گے۔‘‘ یعنی ان کا وصف کثرتِ نماز ہے جس کے جلیل ترین ارکان رکوع اور سجود ہیں ﴿ يَّبۡتَغُوۡنَ ﴾ وہ اس عبادت کے ذریعے سے طلب گار ہیں ﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا ﴾’’اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچنا اور اس کا ثواب حاصل کرنا ان کا مطلوب و مقصود ہے۔﴿ سِيۡمَاهُمۡ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ﴾ حسن عبادت اور اس کی کثرت نے ان کے چہروں پر اثر کیا ہے حتیٰ کہ وہ منور ہو گئے ہیں، چونکہ نماز کے نور سے ان کے باطن روشن ہیں لہذا جلال سے ان کے ظاہر منور ہیں ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ احوال ﴿ مَثَلُهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ ﴾ یعنی ان کا یہ وصف جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، تو رات کریم میں اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ انجیل میں ان کو ایک اور وصف سے موصوف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کمال اور باہم تعاون میں ﴿ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ ﴾ ’’گویا ایک کھیتی ہے جس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنی جڑ سے شاخیں نکالیں ، پھر ان کو استوا و ثبات میں مضبوط کیا۔ ﴿ فَاسۡتَغۡلَظَ ﴾ پس یہ کھیتی طاقت ور اور مضبوط ہو گئی۔ ﴿ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ ﴾ ’’پھر قوت کے ساتھ کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر‘‘ (سوق)جمع ہے ساق کی، یعنی اپنی جڑوں پر کھڑی ہو گئی۔ مراد یہ ہے کہ یہ کھیتی مضبوط اور قوی ہو گئی اور اس کے تنے کھڑے ہو گئے۔﴿ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ ﴾ جو اپنے کامل طور پر سیدھا کھڑا ہونے اور اپنے حسن اعتدال کی بنا پر کاشتکاروں کو بھلی لگتی ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام y مخلوق کو نفع پہنچانے اور لوگوں کا ان کی طرف ضرورت مند ہونے کی وجہ سے، کھیتی کی مانند ہیں۔ ان کی قوت ایمان اور قوت عمل پودے کی رگوں اور اس کے تنوں کی مانند ہے۔ وہ کم عمر صحابہ کرام اور جن کا اسلام متاخر تھا، جنھوں نے بزرگ صحابہ کرام کی پیروی کی، ان کے ہاتھ مضبوط کیے، اقامت دین اور دعوت دین میں، ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس نے اپنی جڑوں سے اور سوئے نکالے، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹی ہو گئی۔بنابریں فرمایا:﴿ لِيَغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’تاکہ ان کی وجہ سے اللہ کافروں کو چڑائے‘‘ جب کفار ان کے اجتماع اور دشمنان دین پر ان کی سختی کو دیکھتے ہیں، نیز جب وہ دست بدست لڑائی اور جنگی معرکوں میں ان کی بہادری کو دیکھتے ہیں، تو یہ چیز ان کے دل کو جلاتی ہے۔ ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ پس صحابہ کرام y ، جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت جس کا لازمہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کے شر سے حفاظت ہے اور دنیا و آخرت کے اندر اجر عظیم کو جمع کیا۔
صلح حدیبیہ کے واقعاتہم صلح حدیبیہ کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں جیسا کہ امام شمس الدین ابن القیم a نے ’’زاد المعاد‘‘ (زاد المعاد: 296-286)میں بیان کیے ہیں کیونکہ ان واقعات سے اس سورۂ مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ابن القیم نے اس سورۂ مبارکہ کے اسرار و معانی پر بھی بحث کی ہے، چنانچہ انھوں نے فرمایا: نافع کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ذی قعد ۶ھ میں پیش آیا اور یہی صحیح ہے۔ امام زہری ، قتادہ ، موسیٰ بن عقبہ ، اور محمد بن اسحاقS وغیرهم کی بھی یہی رائے ہے۔ہشام بن عروہ a اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ماہ رمضان میں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ شوال میں پیش آیا مگر یہ وہم ہے رمضان میں تو مکہ فتح ہوا تھا۔ ابوالاسود، عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ صلح حدیبیہ ذی قعد میں ہوئی تھی۔ صحیحین میں حضرت انسt سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چار عمرے کیے، جو سب کے سب ذی قعد میں تھے۔ ان میں عمرہ حدیبیہ بھی ذکر کیا، آپ کے ساتھ پندرہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہw سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیحین میں حضرت جابرt سے مروی ہے کہ نبیﷺ کے ساتھ چودہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں عبداللہ بن ابی اوفیٰt سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم تیرہ سو افراد تھے۔ قتادہa روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب سعید بن المسیبa سے پوچھا کہ کتنے لوگوں کی جماعت تھی جو بیعت رضوان میں شریک ہوئی؟ انھوں نے جواب دیا ’’پندرہ سو افراد تھے‘‘ میں نے عرض کیا ’’حضرت جابرt فرماتے ہیں کہ وہ چودہ سو افراد تھے‘‘ سعید بن المسیبa نے فرمایا: ’’اللہ ان پر رحم فرمائے، انھیں وہم ہوا ہے، انھی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ پندرہ سو افراد تھے۔‘‘ میں (ابن القیم) کہتا ہوں ’’حضرت جابر بن عبداللہw سے دونوں قول صحت کے ساتھ مروی ہیں اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ حدیبیہ والے سال ستر اونٹ قربان کیے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا ’’آپ کتنے افراد تھے؟‘‘ حضرت جابرt نے جواب دیا ’’سوار اور پیدل دونوں مل کر چودہ سو نفوس تھے‘‘ یعنی ان کے سوار اور پیا دے۔میلان قلب بھی زیادہ اسی طرف ہے، براء بن عازب، معقل بن یسار اور سلمہ بن الاکوع y سے بھی صحیح تر روایت کے مطابق یہی تعداد ہے اور مسیب بن حزنw کا بھی قول ہے۔ شعبہa ، قتادهa سے، قتاد سعید بن المسیبa سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ درخت کے نیچے (بیعت کرنے والے) چودہ سو افراد تھے۔جس نے یہ کہا کہ وہ کل سات سو افراد تھے اس نے واضح طور پر غلطی کی ہے۔ سات سو افراد کہنے والے حضرات کا عذر یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس روز ستر اونٹ ذبح کیے تھے اونٹ کی قربانی کے بارے میں آتا ہے کہ اونٹ کی قربانی سات یا دس افراد کی طرف سے کافی ہے۔ مگر یہ بھی اس قائل کے دعویٰ پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ راوی نے تصریح کی ہے کہ اس غزوہ میں ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کیا گیا تھا۔ اگر قربانی کے ستر اونٹ سب کی طرف سے ہوتے تو کل چار سو نوے افراد ہوتے۔ راوی مکمل حدیث اسی طرح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کل چودہ سو نفوس تھے۔فصلجب رسول اللہﷺ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانیوں کو ہار پہنائے اور علامتیں لگائیں اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے آگے بنو خزاعہ میں سے ایک جاسوس بھیجا جو قریش کے حالات کے بارے میں آگاہ کرے۔ جب آپ عسفان کے قریب پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا ’’میں کعب بن لوی کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انھوں نے آپ کے مقابلے کے لیے، مختلف قبیلوں سے لوگوں کو جمع کر رکھا ہے وہ سب جمع ہو کر آپ سے ضرور لڑیں گے اور بیت اللہ کی زیارت سے آپ کو روکیں گے۔رسول مصطفیﷺ نے اپنے اصحاب کرام سے مشورہ کیا کہ آیا ہم ان قبائل کے پسماندگان پر حملہ کر دیں جو قریش کی مدد کے لیے جمع ہوئے ہیں اور ان کو قیدی بنا لیں، اگر وہ پھر بیٹھے رہے تو بدلہ لیے بغیر غم زدہ بیٹھے رہیں گے اور اگر وہ بچ نکلے تو وہ ایسی گردن ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہے… یا تمھارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد رکھیں، جو کوئی ہمیں روکنے کی کوشش کرے تو ہم اس سے جنگ کریں؟حضرت ابوبکرt نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، ہم کسی کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ تاہم جو کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم اس سے ضرور لڑیں گے۔‘‘ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’تو پھر کوچ کرو!‘‘ پس صحابہ کرام نے کوچ کیا، ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’خالدبن ولید قریش کے گھڑ سواروں کے ساتھ غمیم کے مقام پر پڑاؤ کیے ہوئے ہے، اس لیے پہلو بچا کر دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو‘‘ اللہ کی قسم! خالد بن ولید کو صحابہ کرام کے نکل جانے کا پتہ تک نہ چلا، یہاں تک مسلمانوں کے لشکر کی گرد ان تک پہنچی تو مسلمانوں کی آمد کا ان کو علم ہوا تو وہ فوراً قریش کو آگاہ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ اس دوران میں نبی اکرمﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ آپ اس گھاٹی میں پہنچ گئے۔ جہاں سے ہو کر مکہ کی طرف اترتے ہیں، تو آپ کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ نے کہا:(حُلْ حُلْ) مگر اونٹنی بیٹھی رہی۔ صحابہ نے کہا، قصواء تھک کر بیٹھ گئی‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا‘‘ قصواء تھک کر نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ اس کو اس ہستی نے روک دیا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا، پھر فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریش مجھ سے جس چیز کا سوال کریں، جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی حرمت کا لحاظ رکھا ہو، میں ان کو یہ چیز ضرور عطا کر دوں گا۔‘‘ پھر آپ نے اونٹنی کو جھڑکا، وہ فوراً جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی، پس رسول اللہﷺ اس گھاٹی سے ایک طرف سے ہٹ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حدیبیہ کے کنویں کے پاس اتر پڑے جس میں بہت ہی تھوڑا پانی تھا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے پانی ختم کر دیا۔ پس انھوں نے رسول اللہﷺ کے پاس پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور صحابہ سے کہا، کہ وہ اس تیر کو اس کنویں میں ڈال دیں۔ راوی کہتا ہے ’’اللہ کی قسم! پورا لشکر اس کنویں سے سیراب ہوتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے وہاں سے کوچ کیا۔ قریش آپ کی روانگی کا سن کر بہت گھبرائے۔رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کرام میں سے کسی شخص کو ایلچی بنا کر بھیجنا چاہتے تھے ، چنانچہ آپ نے عمرt کو بلایا تاکہ ان کو قریش کی طرف بھیجیں۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر مکہ میں مجھے کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو بنو کعب بن لؤی میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو میری خاطر ناراض ہو۔ اس لیے آپ حضرت عثمان کو بھیجيے، وہاں ان کا بہت بڑا قبیلہ ہے اور جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کا پیغام پہنچا دیں گے۔رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو بلایا اور ان کو سفیر بنا کر قریش کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ قریش کو کہہ دو کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کے لیے آئے ہیں اور انھیں اسلام کی دعوت دو‘‘ نیز آپ نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں جو مومن مرد اور عورتیں ہیں وہ ان کے پاس بھی جائیں اور ان کو فتح کی خوشخبری دیں۔ نیز ان کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مکہ میں اپنے دین کو غالب کرے گا۔ حتیٰ کہ یہاں ایمان کو چھپایا نہیں جائے گا۔حضرت عثمانt روانہ ہوئے، بلدح کے مقام پر ان کا گزر قریش کے پاس سے ہوا۔ قریش نے پوچھا ’’عثمان کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ حضرت عثمان نے فرمایا ’’مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں اور ہم تمھیں آگاہ کرتے ہیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا ’’تم نے جو کہا، ہم نے سن لیا، اب جاؤ اپنا کام کرو‘‘ ابان بن سعید اٹھا، اس نے حضرت عثمان کو مرحبا کہا، اپنے گھوڑے پر زین رکھی، حضرت عثمان کو گھوڑے پر سوار کرایا اور ان کو پناہ دی، ابان بن سعید حضرت عثمان کو اپنے ساتھ بٹھا کر مکہ آیا۔ حضرت عثمان کے واپس لوٹنے سے پہلے مسلمانوں نے کہا ’’عثمانt ہم سے پہلے بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میرا خیال ہے وہ اس حالت میں کہ ہم یہاں محصور ہیں، بیت اللہ کا طواف نہیں کریں گے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! وہ بیت اللہ پہنچ گئے ہیں، انھیں کون سی چیز بیت اللہ کے طواف سے روک سکتی ہے؟آپ نے فرمایا ’’عثمان کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ کعبہ کا طواف اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ ان کے ساتھ ہم نہ کریں۔‘‘ مسلمان صلح کے معاملے میں مشرکین کے ساتھ گھل مل گئے۔ فریقین میں سے کسی شخص نے دوسرے فریق کے کسی آدمی کو پتھر مارا، بس معرکہ برپا ہو گیا فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلانے اور پتھر پھینکنے شروع کر دیے دونوں فریق چلائے ہر فریق اپنے اپنے آدمیوں کے فعل پر مجبور تھا۔ رسول اللہﷺ تک جناب عثمان کے قتل کی افواہ پہنچی تو آپ نے بیعت کے لیے صحابہ کرام کو طلب فرمایا۔رسول اللہﷺ درخت کے سائے میں تشریف فرما تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنا دست مبارک پکڑا اور فرمایا ’’یہ عثمانt کی طرف سے بیعت ہے۔‘‘ جب بیعت مکمل ہو گئی تو حضرت عثمانt بھی واپس آ گئے۔ صحابہ کرام نے حضرت عثمانt سے کہا ’’آپ نے تو بیت اللہ کا طواف کر کے اپنے دل کو ٹھنڈا کر لیا۔‘‘ حضرت عثمانt نے کہا ’’میرے بارے میں تم نے بہت ہی برا گمان رکھا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر سال بھر بھی میں مکہ مکرمہ میں رہوں، اور رسول اللہﷺ حدیبیہ کے مقام پر فروکش ہوں، تو میں اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہﷺ طواف نہ کر لیں۔ قریش نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے کی دعوت دی تھی مگر میں نے انکار کر دیا تھا‘‘ صحابہ کرام نے کہا ’’رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ہم سے زیادہ اچھا گمان رکھتے ہیں۔‘‘ حضرت عمرt نے درخت کے نیچے بیعت کے لیے جناب رسول اللہﷺ کا دست مبارک تھامے رکھا اور جد بن قیس کے سوا تمام مسلمانوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت معقل بن یسارt آپ پر درخت کی ٹہنیاں اٹھائے رہے۔ابوسنان اسدیt پہلے شخص تھے جنھوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ سلمہ بن الاکوعt نے تین مرتبہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، ایک دفعہ ابتدا میں، پھر درمیان میں اور ایک دفعہ آخر میں۔بیعت کا سلسلہ اسی طرح جاری تھا کہ بدیل بن ورقاء خزاعی بنو خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تہامہ کی پوری وادی میں صرف خزاعی آپ کے خیر خواہ تھے، بدیل نے کہا ’’میں بنو کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑ کر آ رہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے چشموں پراترے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں بھی ہیں، وہ آپﷺ کے ساتھ لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہم کسی کے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، جنگ نے قریش کو کمزور کر دیا ہے اور ان کو نقصان پہنچایا ہے، اس صورت میں اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت کے لیے ان کے ساتھ صلح کر لوں گا، وہ میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں، اگر وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں، ورنہ آرام سے بیٹھیں۔ اور اگر انھیں جنگ کے سوا کچھ منظور نہیں تو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری زندگی ہے۔ میں اپنے اس دین پر ان سے ضرور لڑوں گا یہاں تک کہ میری گردن تن سے جدا ہو جائے، یا اللہ تعالیٰ اپنے دین کو نافذ کر دے۔‘‘ بدیل نے عرض کیا ’’میں آپ کی بات قریش تک پہنچا دوں گا۔‘‘ بدیل چلا گیا حتیٰ کہ وہ قریش کے پاس پہنچا اور ان سے کہنے لگا ’’میں اس شخص کے پاس سے ہو کر آیا ہوں، میں نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر آپ لوگ چاہیں تو میں وہ بات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ قریش کے بیوقوف لوگوں نے کہا ’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں کچھ سناؤ ‘‘ مگر ان میں سے اصحاب رائے نے کہا ’’ہاں بتاؤ تم نے اس سے کیا سنا ہے‘‘ بدیل نے کہا ’’میں نے اس کو یہ کچھ کہتے سنا ہے۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا: ’’اس شخص نے تمھارے سامنے ایک اچھی بات پیش کی ہے، اس کو قبول کر لو، اور مجھے اس کے پاس جانے دو‘‘ قریش نے کہا ’’ہاں تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی آپ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺ نے عروہ بن مسعود سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے محمد(ﷺ)! کیا تم اپنی قوم ہی کی جڑ کاٹو گے، کیا تم نے کسی عرب کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے تم سے پہلے اپنی قوم کو نیست و نابود کیا ہو؟ اگر کوئی دوسری بات ہوئی تو اللہ کی قسم! میں کچھ ایسے چہرے اور اس طرح کے لوگ دیکھ رہا ہوں جو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘‘ حضرت ابوبکرt نے اس سے کہا ’’تو، لات کی شرم گاہ چو ستا رہ، کیا ہم رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟‘‘ عروہ بن مسعود نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت ابوبکر صدیقt نے کہا ’’میں ابوبکر ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تیرا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا بدلہ میں ابھی تک نہیں اتار سکا تو میں تجھے اس کا جواب دیتا۔‘‘ اس نے رسول اللہﷺ سے بات چیت شروع کی۔ جب وہ بات کرتا تو آپ کی ریش مبارک کو چھوتا، حضرت مغیرہ بن شعبہt آپ کے سر پر کھڑے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود پہن رکھا تھا۔ جب بھی عروہ بن مسعود اپنا ہاتھ آپ کی ریش مبارک کی طرف بڑھاتا، تو مغیرہt اپنی تلوار کا نعل اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے ’’اپنے ہاتھ کو رسول اللہﷺ کی ریش مبارک سے دور رکھو۔‘‘ عروہ بن مسعود نے اپنا سر اٹھا کر پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ مغیرہt نے کہا ’’میں مغیرہ بن شعبہ ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے بے وفا شخص! کیا میں تیری بے وفائی کے انتقام کی کوشش میں نہیں ہوں؟‘‘ حضرت مغیرہ بن شعبہt ایام جاہلیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ مصاحبت رکھتے تھے، پس مغیرہ بن شعبہt نے ان لوگوں کو قتل کر دیا ان کا مال لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئے۔ آپ نے فرمایا ’’میں تمھارا اسلام لانا تو قبول کرتا ہوں، لیکن مال کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ پھر عروہ بن مسعود دیر تک اصحاب رسولﷺ کو دیکھتا رہا، اللہ کی قسم! جب کبھی نبی اکرمﷺ نے تھوک پھینکا تو کسی نہ کسی شخص نے اسے اپنے ہاتھ پر لیا اور اسے اپنے جسم اور چہرے پر مل لیا ۔آپ کوئی حکم دیتے تو صحابہ اس کی تعمیل کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، جب آپ وضو فرماتے تو صحابہ آپ کے وضو کے مستعمل پانی پر گویا لڑتے تھے، جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ کرام آپ کے پاس اپنی آوازوں کو پست کر لیتے تھے، آپ تعظیم کی وجہ سے آپﷺ کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔عروہ بن مسعود اپنے اصحاب ( یعنی قریش) میں واپس آیا اور ان سے کہنے لگا ’’اے لوگو! میں کسریٰ، قیصر اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے مصاحبین اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد (ﷺ) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) جب بھی تھوک پھینکتے تو کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھ پر لے کر اپنے جسم اور چہرے پر مل لیتا تھا۔ جب محمد (ﷺ) کوئی حکم دیتے تو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تعمیل کی کوشش کرتے، جب محمد (ﷺ) وضو کرتے تو وضو کے مستعمل پانی کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے۔ جب محمد (ﷺ) گفتگو کرتے تو لوگ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے وہ محمد (ﷺ) کی تعظیم کے طور پر ان کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ بے شک انھوں نے ایک نہایت اچھی بات تمھارے سامنے پیش کی ہے اور اس پر زور دیا ہےکہ تم اسے قبول کر لو۔‘‘ بنو کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا ’’مجھے اس کے پاس جانے دو۔‘‘ قریش نے کہا ’’تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ جب یہ شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ فلاں شخص ہے اور اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو قربانی کے جانوروں کا بہت احترام کرتے ہیں، تم قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آؤ ، پس لوگ قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آئے اور تلبیہ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا ’’سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب نہیں‘‘ پھر وہ اپنے لوگوں کی طرف واپس آیا اور ان سے کہا ’’میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے کہ ان کو ہار پہنائے گئے ہیں اور ان کا اشعار کیا گیا ہے میری رائے ہے کہ ان کو بیت اللہ سے نہ روکا جائے۔‘‘ پھر مکرز بن حفص کھڑا ہوا اور اس نے کہا ’’مجھے اجازت دو کہ میں محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ ں‘‘ جب مکرز ان کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ مکرز بن حفص ہے اور یہ فاسق و فاجر شخص ہے۔ مکرز بن حفص نے رسول اللہﷺ سے گفتگو شروع کی۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمھارا معاملہ آسان فرما دیا۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کا معاہدہ لکھ دیجیے‘‘ رسول اللہﷺ نے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا: ’’لکھو: (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) سہیل بن عمرو نے کہا ’’رہا رحمٰن، تو اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کیا ہے بلکہ لکھو ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) جیسا کہ تو لکھا کرتا تھا۔مسلمانوں نے کہا ’’اللہ کی قسم! ہم تو (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) ہی لکھیں گے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) ہی لکھ دو‘‘ پھر فرمایا: ’’لکھو: یہ وہ تحریر ہے، جس پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے صلح کی۔‘‘ اس پر سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا ’’اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ کی زیارت سے نہ روکتے اور نہ آپ کے خلاف جنگ کرتے۔ بلکہ لکھو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم نے میری تکذیب کی ہے، تاہم لکھ دو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’اس بات پر صلح ہے کہ تم بیت اللہ اور ہمارے درمیان سے ہٹ جاؤ گے اور ہم طواف کریں گے۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا، کہیں عرب یہ نہ کہیں کہ ہمیں مجبور کر دیا گیا، البتہ آپ آئندہ سال طواف کریں، پس یہی لکھ دیا گیا۔سہیل بن عمرو نے کہا ’’یہ اس بات پر صلح نامہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی شخص (بھاگ کر) تمھارے پاس آ جائے تو تم اسے واپس کر دو گے، خواہ وہ تمھارے دین پر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ مسلمانوں نے کہا ’’سبحان اللّٰہ! جو شخص مسلمان ہو کر آیا ہو اسے کیسے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا‘‘ ابھی وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ابوجندل بن سہیلw اپنی بیڑیوں میں بڑی مشکل سے چلتے ہوئے، نشیب مکہ سے نکلے اور اپنے آپ کو صحابہ کے درمیان ڈال دیا، سہیل بن عمرو نے کہا ’’اے محمد! (ﷺ) یہ پہلی شرط ہے جس پر میں نے تمھارے ساتھ صلح کی ہے، ابوجندل کو واپس کر دو۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ابھی ہم نے تحریر ختم نہیں کی۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! اگر یہ بات ہے تو میں تمھارے ساتھ کسی بات پر کبھی بھی صلح نہیں کروں گا۔‘‘ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس کی اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں ہرگز اس کی اجازت نہیں دوں گا‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں! اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں اجازت نہیں دوں گا‘‘مکرز نے کہا ’’میں اجازت دیتا ہوں‘‘ابوجندل نے کہا ’’اے مسلمانو! کیا مجھے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا دراں حالیکہ میں مسلمان ہو کر تمھارے پاس آیا ہوں، کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ مجھے کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘‘حضرت ابوجندلt کو اللہ کے راستے میں سخت عذاب سے دو چار کیا گیا تھا۔ حضرت عمرt فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے اسلام کی حقانیت پر، اس دن کے سوا، کبھی شک نہیں ہوا، میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟‘‘آپ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’تو پھر ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں دکھائیں؟آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ کا رسول ہوں، وہی میرا مددگار ہے، میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘میں نے عرض کیا’’ کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب بیت اللہ کا طواف کریں گے؟‘‘رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ تم اسی سال آ کر بیت اللہ کا طواف کرو گے؟‘‘میں نے عرض کیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’تم ضرور بیت اللہ کی زیارت اور طواف کرو گے۔‘‘حضرت عمرt کہتے ہیں: اس کے بعد میں ابوبکرt کے پاس آیا اور ان سے بھی وہی کچھ کہا جو رسول اللہﷺ سے کہا تھا اور انھوں نے بھی وہی جواب دیا جو رسول اللہﷺ نے دیا تھا، اور مزید کہا: ’’مرتے دم تک ان کے امر و نہی کی اطاعت کر، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں‘‘ حضرت عمر فرماتے ہیں ’’میں نے اس سوال جواب کی گستاخی کی تلافی کے لیے کفارے کے طور پر بہت اعمال کیے۔‘‘ جب رسول اللہﷺ صلح نامہ کی تحریر سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’اٹھو قربانی کرو اور اپنا سر منڈاؤ ۔‘‘ اللہ کی قسم! کوئی شخص نہ اٹھا حتیٰ کہ آپ نے تین مرتبہ کہا۔ جب ان میں سے کوئی آدمی نہ اٹھا تو آپ اٹھ کر ام سلمہ r کے خیمہ میں چلے گئے، جو کچھ لوگوں کی طرف سے پیش آیا تھا حضرت ام سلمہr سے کہہ سنایا۔حضرت ام سلمہr نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا آپ واقعی یہی چاہتے ہیں؟ اگر یہ بات ہے تو آپ باہر تشریف لے جائیے، اور اس وقت تک کسی سے بات نہ کیجیے جب تک کہ آپ اپنی قربانی کو ذبح نہ کر لیں، پھر حجام کو بلائیے اور وہ آپ کا سر مونڈ دے‘‘ نبئ اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور باہر نکل گئے، آپ نے کسی سے گفتگو نہ فرمائی، جب تک کہ یہ سب کچھ نہ کر لیا، آپ نے اپنے قربانی کے جانور ذبح کیے ، پھر حجام کو بلوایا، اس نے آپ کا سر مونڈا۔ جب صحابہ کرام نے یہ دیکھا تو وہ اٹھے اور انھوں نے بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے، پھر ازدحام کی وجہ سے ایسے لگتا تھا کہ کہیں وہ ایک دوسرے کو قتل نہ کر دیں۔ پھر مومن خواتین آئیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِـاِيۡمَانِهِنَّ۠١ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ١ؕ وَاٰتُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا١ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ١ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ﴾(الممتحنۃ:60؍10) ’’اے ایمان والو! جب تمھارے پاس مومن عوتیں آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، ان کے ایمان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف مت لوٹاؤ وہ ان کفار کے لیے حلال نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں اور انھوں نے جو کچھ ان پر خرچ کیا ہے انھیں دے دو، اور تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ان کے ساتھ مہر مقرر کرنے کے بعد نکاح کر لو اور کافر عورتوں کو اپنے پاس نہ رکھو۔‘‘ حضرت عمرt نے اس روز اپنی دو بیویوں کو طلاق دی تھی جو شرک کی حالت میں ان کے پاس تھیں۔ ان میں سے ایک کے ساتھ امیر معاویہt نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر رسول اللہﷺ واپس مدینہ لوٹ آئے، واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورۂ فتح نازل فرمائی۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘! صحابہ کرامy نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(الفتح: 4/48)