Tafsir As-Saadi
5:9 - 5:10

وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)

[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘
[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔