کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔