آپ کہہ دیجیے! وہی قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ بھیجے تم پر تمھارے اوپر سے یا نیچے سے تمھارے پاؤں کے یا خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو( مزہ) لڑائی کا بعض سے ، دیکھیں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو تاکہ وہ سمجھیں (65)اور جھٹلایا اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے، کہہ دیجیے! نہیں ہو ں میں تم پر نگہبان (66)ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے (67)
[65] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعًا ﴾ ’’یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔‘‘ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں ۔
[66]﴿وَ كَذَّبَ بِهٖ﴾ ’’اور اس کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں ۔
[67]﴿ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ﴾ ’’ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔