Tafsir As-Saadi
65:4 - 65:5

اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئیں حیض سے تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے، اگر شک میں پڑو تم تو ان کی عدت ہے تین مہینے، اور (اسی طرح) ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا (ابھی) اور (جو) حمل والیاں ہیں ان کی عدت وضع حمل (بچہ جننا) ہے اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے اس کے کام میں آسانی(4) یہ حکم ہے اللہ کا، اس نے نازل کیا ہے اسے تمھاری طرف، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ دور کر دیتا ہے اس سے اس کی برائیاں اور زیادہ دیتا ہے اس کو اجر(5)

[4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ يَىِٕسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآىِٕكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ لَمۡ يَحِضۡنَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے:﴿ وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ﴾(البقرہ:2؍228)’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘﴿ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ يُسۡرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
[5]﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے۔‘‘ تاکہ تم اس پر چلو، اسے اپنا راہ نما بناؤ اور اس کی تعظیم کرو ﴿وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَـفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔‘‘ یعنی محذور اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہو گا۔