Tafsir As-Saadi
7:16 - 7:17

اس نے کہا!پس بوجہ اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھے،ضرور بیٹھوں گا میں ان(کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر(16) پھر ضرورآؤں گامیں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور نہیں پائے گا تو ان کی اکثريت کو شکرگزار(17)

[16] جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ ﴾ ’’جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے‘‘ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’تیرے سیدھے راستے پر۔‘‘اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
[17]﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآىِٕلِهِمۡ ﴾ ’’پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے‘‘ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں ۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔