Tafsir As-Saadi
72:8 - 72:9

اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو پایا ہم نے اسے بھرا ہوا سخت پہرے داروں اور شعلوں سے(8) اور یہ کہ تھے ہم بیٹھا کرتے اس (آسمان) کے ٹھکانوں میں (باتیں) سننے کے لیے پس جو کوئی کان لگاتا ہے اب، پاتا ہے وہ اپنے لیے شعلہ گھات میں تیار(9)

[8]﴿ وَّاَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَؔ﴾ یعنی جب ہم آسمان پر آئے اور وہاں کے حالات کی خبر لی ﴿ فَوَجَدۡنٰهَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’تو ہم نے بھرا ہوا پایا اس کو مضبوط چوکیدار سے۔‘‘ یعنی اس کے کناروں تک پہنچنے اور اس کے قریب آنے سے، اس کی حفاظت کی گئی تھی ﴿ وَّشُهُبًا ﴾ ’’اور انگاروں سے۔‘‘ ان شہابوں (انگاروں) کو ان (جنات)پر پھینکا جاتا ہے، جو آسمانوں کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری پہلی عادت کے برعکس ہے، کیونکہ پہلے ہمارے لیے آسمان کی خبروں تک رسائی ممکن تھی۔[9]﴿ وَّاَنَّا كُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ﴾ ’’اس سے پہلے ہم سن گن لینےکے لیے آسمان کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتےتھے۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے ﴿ فَمَنۡ يَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ يَجِدۡ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا﴾اب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتاہے تو شہاب کو تیار پاتا ہے ، یعنی اس کی گھات لگائے ہوئے، اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، اس کا معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے۔ انھیں قطعی طور پر یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا: