اور یہ کہ جب سنی ہم نے ہدایت (کی بات) تو ایمان لے آئے ہم اس پر،پس جو کوئی ایمان لائے گا اپنے رب پر تو نہیں ڈرے گا وہ کسی نقصان سے اور نہ ظلم و زیادتی سے (13) اور یہ کہ کچھ ہم میں سے مسلمان ہیں اور کچھ ہم میں سے ظالم ہیں، پس جو کوئی اسلام لایا تو انھوں نے تلاش کر لی راہ حق (14)
[13]﴿ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡهُدٰۤى ﴾ ’’اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی۔‘‘ اور وہ قرآن کریم ہے جو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے، ہم نے اس کی رشد و ہدایت کو پہچان لیا ہے اور اس نے ہمارے دلوں پر اثر کیا ﴿ اٰمَنَّا بِهٖ﴾ ’’تو ہم اس پر ایمان لے آئے‘‘ پھر انھوں نے اس بات کا ذکر کیا جو مومن کو ترغیب دیتی ہے، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ فَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخۡسًا وَّلَا رَهَقًا﴾ یعنی جو کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آیا، اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑے گا نہ کوئی تکلیف لاحق ہو گی اورجب وہ شر سے محفوظ ہو گیا تو اسے بھلائی حاصل ہو گئی۔ پس ایمان ایک ایسا سبب ہے جو ہر قسم کی بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شر کی نفی کرتا ہے۔
[14]﴿ وَّاَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَمِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ﴾ ’’اور بے شک ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض ( نافرمان) گناہ گار ہیں۔‘‘ یعنی صراط مستقیم سے ہٹنے اور اس کو چھوڑنے والے ﴿ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا﴾ پس جو فرماں بردار ہوئے۔ انھوں نے رشد و ہدایت کا راستہ پا لیا، جو ان کو جنت اور اس کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے۔