Tafsir As-Saadi
77:20 - 77:24

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24)

[24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔