Tafsir As-Saadi
9:90 - 9:93

اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)

[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾’’نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ‘‘ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں ۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں ۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
[92]﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں ‘‘ مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلۡتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ١۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے‘‘ کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں ۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
[93]﴿ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ ’’الزام تو‘‘ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاۡذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ﴾ ’’ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ ﴿ رَضُوۡا ﴾ ’’وہ خوش ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ۔ ﴿ بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔‘‘ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔