Tafsir As-Saadi
9:67 - 9:68

منافق مرد اور منافق عورتیں ان کے بعض بعض سے (، یعنی ایک جیسے ہی) ہیں، حکم دیتے ہیں وہ برے کام کا اور روکتے ہیں نیک کام سے۔ اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ(خرچ کرنے سے)، بھلا دیا انھوں نے اللہ کو تو اس نے بھی بھلا دیا ان کو، بے شک منافقین، وہی ہیں نافرمان(67) وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی (عذاب) کافی ہے ان کواور لعنت کی ان پر اللہ نےاوران کے لیے عذاب ہے دائمی(68)

[67]﴿ اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ۠ وَالۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں ۔‘‘ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں ‘‘ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور معروف سے روکتے ہیں ‘‘ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں ۔ ﴿وَيَقۡبِضُوۡنَ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو‘‘ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ ﴾ ’’وہ بھول گئے اللہ کو‘‘ پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ۔ ﴿ فَنَسِيَهُمۡ ﴾ ’’تو وہ بھی بھول گیا ان کو‘‘ یعنی ان پر رحمت کرنے سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا بلکہ وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک منافق ہی نافرمان ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کر دیا کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔
[68]﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ هِيَ حَسۡبُهُمۡ١ۚ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں ، وہی بس ہے ان کو اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لیے برقرار رہنے والا عذاب ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔