اور نہیں تھے لوگ (پہلے) مگر ایک ہی امت، پھر انھوں نے اختلاف کیااور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (سے متعین) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو یقینا فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اس چیز کے بارے میں کہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے (19)وہ کہتے ہیں ، کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے؟ سو آپ کہہ دیجیے! یقینا غیب تو اللہ ہی کے لیے ہے، پس تم انتظار کرو، بلاشبہ میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں (20)
[19]﴿ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت‘‘ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہو چکی ہے‘‘ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا‘‘ بایں طور کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کر دیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ ﴿ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔
[20]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، مثلاً:وہ کہا کرتے تھے: ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍7) ’’اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا‘‘ اور جیسے ان کا یہ قول ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90)’’اور انھوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لیے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔‘‘﴿ فَقُلۡ ﴾ جب وہ آپ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا الۡغَيۡبُ لِلّٰهِ ﴾ ’’غیب کی بات تو اللہ ہی جانے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ۔ ﴿ فَانۡتَظِرُوۡا١ۚ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟