(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے الم(1) یہ کتاب ہے، نہیں کوئی شک اس میں،ہدایت ہے متقیوں کے لیے(2) وہ جو ایمان لاتے ہیں ساتھ غیب کے اور قائم کرتے ہیں نماز اور کچھ اس میں سے جوہم نے ان کو دیا، وہ (اللہ کی راہ میں)خرچ کرتے ہیں(3) اوروہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا آپ کی طرف اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہ لوگ اوپر ہدایت کے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہی فلاح پانے والے ہیں(5)
بسم اللہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
[1] بعض سورتوں کی ابتدا میں جو حروف مقطعات آئے ہیں ان کے بارے میں محتاط اور محفوظ مسلک یہ ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے معانی معلوم کرنے کے لیے تعرض نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حروف مقطعات کو بے فائدہ نازل نہیں فرمایا بلکہ ان کے نازل کرنے میں کوئی حکمت پنہاں ہے جو ہمارے علم کی دسترس سے باہر ہے۔
[2]﴿ ذٰلِكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی یہ کتاب عظیم ہی درحقیقت کتاب کہلانے کی مستحق ہے جو بہت بڑے علم اور واضح حق جیسے امور پر مشتمل ہے جو پہلے انبیاء کی کتابوں میں نہیں ہیں۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کتابِ عظیم کے بارے میں شک و شبہ کی نفی اس کی ضد کو مستلزم ہے، جبکہ شک و شبہ کی ضد یقین ہے۔ پس یہ کتاب ایسے علم یقینی پر مشتمل ہے جو شکوک و شبہات کو زائل کرنے والا ہے یہ ایک نہایت مفید قاعدہ ہے کہ نفی سے مقصود مدح ہے۔ تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ اس کی ضد کومتضمن ہو اور وہ ہے کمال۔ کیونکہ نفی عدم محض ہوتی ہے اور عدم محض میں کوئی مدح نہیں ہے۔ جب یہ کتابِ عظیم یقین پر مشتمل ہے اور ہدایت صرف یقین ہی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے تو فرمایا :﴿هُدًي لِّلۡمُتِّقِيۡنَ﴾ ’’متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ (اَلْہُدٰی) وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے گمراہی اور شبہات کی تاریکی میں راہ نمائی حاصل ہو اور جو فائدہ مند راستوں پر گامزن ہونے میں راہ نمائی کرے۔ اور اللہ تعالیٰ نے لفظ ﴿هُدًي﴾ استعمال کیا ہے اور اس میں معمول کو حذف کر دیا گیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ فلاں مصلحت اور فلاں چیز کی طرف راہ نمائی (ہدایت) ہے۔ کیونکہ اس سے عموم مراد ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی ہے۔ لہٰذا یہ تمام اصولی اور فروعی مسائل میں بندوں کی راہنما ہے، باطل میں سے حق کو اور ضعیف میں سے صحیح کو واضح کرتی ہے، نیز بندوں کے سامنے بیان کرتی ہے کہ دنیا و آخرت کے لیے فائدہ مند راستوں پر انھیں کیسے چلنا چاہیے۔ ایک دوسرے مقام پر ﴿هُدًي لِّلنَّاسِ﴾(البقرہ: 2؍185) ’’تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے‘‘ فرما کر اس کو عام کر دیا۔ اس مقام پر اوربعض دیگر مقامات پر فرمایا: ﴿هُدًي لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ کیونکہ یہ فی نفسہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے، لیکن چونکہ بدبخت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی قبول نہیں کرتے، اس لیے اس کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہو گئی ہے کہ انھوں نے اپنی بدبختی کے سبب سے اس ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ رہے متقی لوگ تو انھوں نے حصول ہدایت کے لیے سب سے بڑا سبب پیش کیا ہے اور وہ ہے تقویٰ اور تقویٰ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اطاعت اور اس کی منہیات سے اجتناب کرتے ہوئے ایسے امور کو اختیار کرنا جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچاتے ہیں۔ پس اہل تقویٰ نے اس کتاب کے ذریعے سے راہ پائی اور اس سے بے انتہا فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا ﴾(الانفال 8؍29) ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لیے ایک کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘ پس اصحاب تقویٰ ہی آیات قرآنیہ (احکام الٰہیہ) اور آیات کونیہ (قدرت کی نشانیوں) سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے کہ ہدایت کی دو قسمیں ہیں: (۱) ہدایت بیان (۲) ہدایت توفیق۔ متقی لوگ ہدایت کی دونوں اقسام سے بہرہ مند ہوتے ہیں ان کے علاوہ دیگر لوگ ہدایت توفیق سےمحروم رہتے ہیں اور ہدایت بیان، توفیق عمل کی ہدایت کے بغیر، حقیقی اور کامل ہدایت نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ کے عقائد، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ کا بیان فرمایا ہےکیونکہ تقویٰ ان امور کو متضمن ہے۔ فرمایا:
[3]﴿الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’وہ لوگ جو غیب کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘ حقیقت ایمان ان امور کی کامل تصدیق کا نام ہے جن کی خبر انبیاء و رسل نے دی ہے یہ تصدیق جوارح کی اطاعت کومتضمن ہے۔ اشیاء کے حسی مشاہدہ سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ ایمان کا تعلق تو اس غیب سے ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں نہ اس کا مشاہدہ ہی کر سکتے ہیں۔محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خبر دینے سے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان مجرد اللہ اور اس کے انبیاء و مرسلین کی تصدیق ہے۔ پس مومن وہ ہے جو ہر اس چیز پر ایمان لاتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے خواہ اس نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہو یا نہ کیا ہو خواہ اس نے اسے سمجھا ہو یا اس کی عقل و فہم کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی ہو۔ زنا دقہ اور امور غیب کی تکذیب کرنے والوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ ان کی عقل ان امور کو سمجھنے سے قاصر رہی اور وہ ان امور تک نہ پہنچ سکے بنا بریں انھوں نے ان امور کو جھٹلا دیا جن کا احاطہ ان کا علم نہ کر سکا۔ پس ان کی عقل فاسد ہوگئی اور ان کا فہم خرابی کا شکار ہوگیا۔ اور امور غیب کی تصدیق کرنے والے اہل ایمان کی عقل اور بڑھ گئی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو راہ نما بنا لیا۔ ایمان بالغیب سے مراد ان تمام امور غیب پر ایمان لانا ہے جن کا تعلق ماضی،مستقبل، احوال آخرت، اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کی کیفیات سے ہے اور جن کی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و مرسلین نے دی ہے۔ پس اہل ایمان نہایت یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں اگرچہ وہ ان کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر رہیں۔ ﴿وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ﴾ ’’وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔‘‘ یہ نہیں کہا کہ وہ نماز کا فعل بجا لاتے ہیں یا وہ نماز کو ادا کرتے ہیں کیونکہ ظاہری صورت و ہیئت کے ساتھ نماز پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اقامت صلاۃ یہ ہے کہ نماز کو جہاں ظاہری شکل و صورت، اس کے تمام ارکان کی کامل ادائیگی اور اس کی شرائط و واجبات کے ساتھ قائم کیا جائے، وہاں اس کو باطنی اعتبار سے اس کی روح کے ساتھ، یعنی اس کے اندر حضور قلب اور اس قول و فعل میں کامل تدبر کے ساتھ قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وہ نماز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡهٰي عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ﴾(العنکبوت 29؍45) ’’بے شک نماز فحش کاموں اور برائیوں سے روکتی ہے۔‘‘ اور یہی وہ نماز ہے جس پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔ پس بندۂ مومن کو اس کی صرف اسی نماز کا ثواب ملتا ہے جسے وہ سمجھ کر ادا کرتا ہے اور نماز میں فرائض اور نوافل سب داخل ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنَاهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے جو ہم نے ان کو دیا، وہ خرچ کرتے ہیں‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ، مثلاً زکاۃ ، بیویوں کا نان و نفقہ، قریبی رشتہ داروں اور اپنے غلاموں پر خرچ کرنا بھی شامل ہے اور بھلائی کے تمام کاموں میں نفقات مستحبہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جن لوگوں پر خرچ کیا جانا چاہیے ان کا یہاں ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کے اسباب اور ایسے لوگوں کی اقسام بہت زیادہ ہیں۔ خرچ جہاں کہیں بھی کیا جائے تقرب الٰہی کا ذریعہ ہوگا۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنَاهُمۡ﴾ میں (من) تبعیض کے لیے ہے اور یہ اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے کہ ان کے رزق اور اموال میں سے تھوڑا سا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا مقصود ہے جس کا خرچ کرنا ان کے لیے نقصان دہ اور گراں نہ ہو بلکہ اس انفاق سے خود انھیں اور ان کے بھائیوں کو فائدہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿رَزَقۡنَاهُمۡ﴾ میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ مال و متاع جو تمھارے قبضے میں ہے تمھیں تمھاری اپنی قوت اور ملکیت کے بل بوتے پر حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا رزق ہے اسی نے تم کو عطا کیا ہے اور اسی نے تم کو اس نعمت سے نوازا ہے۔ پس جس طرح اس نے تمھیں اور بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور اس نےتمھیں اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی، تو تم بھی اللہ کا شکر ادا کرو اور ان نعمتوں کا کچھ حصہ اپنے مفلس اور نادار بھائیوں پر خرچ کر کے ان کی مدد کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نماز اور زکاۃ کو اکٹھا ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز معبود کے لیے اخلاصکو متضمن ہے اور زکاۃ اور انفاق فی سبیل اللہ اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔ پس بندۂ مومن کی سعادت کا عنوان یہ ہے کہ اس کا اخلاص معبود کے لیے ہو اور اس کی تمام تر کاوش مخلوق کو نفع پہنچانے کے لیے ہو، جیسے بندے کی بدبختی اور شقاوت کا عنوان یہ ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں سے محروم ہو اس کے پاس اخلاص ہو نہ حسن سلوک۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ يُوۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ﴾ ’’اور وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا‘‘ اس سے مراد قرآن اور سنت ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتَابَ وَالۡحِكۡمَۃَ﴾(النساء4؍113) ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت (یعنی سنت) نازل کی۔‘‘ پس اصحاب تقویٰ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جنھیں رسول اللہﷺلے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی میں تفریق نہیں کرتے کہ اس کے کسی حصے پر تو ایمان لے آئیں اور کسی حصے پر اپنے انکار یا ایسی تاویل کے ذریعے سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ ہو، ایمان نہ لائیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے جو قرآن و سنت کی ان نصوص کی تاویل کرتے ہیں جو ان کے قول کے خلاف ہوتی ہیں جو کہ درحقیقت ان نصوص کے معانی کی تصدیق نہیں ہے وہ اگرچہ ان نصوص کے ظاہری الفاظ کی تصدیق کرتے ہیں مگر ان پر حقیقی طور پر ایمان نہیں لاتے۔ ﴿وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ﴾ ’’اور اس پر جو آپ سے پہلے اتارا گیا‘‘ یہ آیت کریمہ گزشتہ تمام کتابوں پر ایمان رکھنے پر مشتمل ہے اور گزشتہ کتابوں پر ایمان لانا اس بات کو متضمن ہے کہ انبیائے سابقین پر ایمان لایا جائے۔ نیز ان حقائق پر ایمان لایا جائے جن پر یہ الہامی کتابیں خاص طور پر تورات، انجیل اور زبور مشتمل ہیں۔ یہ اہل ایمان کی خصوصیت ہے کہ وہ تمام کتب سماویہ اور تمام انبیاء و مرسلین پر ایمان لاتے ہیں ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ﴿وَبِالۡاٰخِرَۃِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘‘ آخرت ان تمام امور کا نام ہے جو مرنے کے بعد انسان کو پیش آئیں گے۔ عمومی ایمان کے ذکر کے بعد آخرت پر ایمان کو خاص طور پر ذکر کیا ہے، کیونکہ آخرت پر ایمان لانا ارکان ایمان میں سے ایک اہم رکن ہے، نیز آخرت پر ایمان رغبت، خوف اور اعمال صالحہ کا باعث ہے۔ اور (یقین) ایسے علم کامل کو کہتے ہیں جس میں ادنیٰ سا بھی شک نہ ہو۔ یقین عمل کا موجب ہوتا ہے۔
[5]﴿اُوۡلٰٓئِكَ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات حمیدہ سے متصف ہیں ﴿عَلٰي هُدًي مِّنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ اپنے رب کی طرف سے عظیم ہدایت پر ہیں۔ کیونکہ یہاں ﴿هُدًي﴾ کا نکرہ استعمال ہونا اس کی تعظیم کی بنا پر ہے اور کون سی ہدایت ایسی ہے جو صفات مذکورہ سے عظیم تر ہو جو صحیح عقیدے اور درست اعمال کو متضمن ہیں؟ ہدایت تو درحقیقت وہی ہے جس پر اہل ایمان عمل پیرا ہیں اس کے علاوہ دیگر تمام مخالف راستے گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس مقام پر (عَلٰی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جو بلندی اور غلبے پر دلالت کرتا ہے اور ’’ضلالت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے (فِی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے۔ ﴿وَاِنَّآ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰي هُدًي اَوۡ فِيۡ ضَلَالٍ مُّبِيۡنٍ﴾(سبا:34؍24) ’’ہم یا تم یا تو سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں‘‘ کیونکہ صاحب ہدایت بر بنائے ہدایت بلند اور غالب ہوتا ہے اور صاحب ضلالت اپنی گمراہی میں ڈوبا ہوا اور نہایت حقیر ہے۔ ﴿وَاُوۡلٰٓئِكَ هُمۡ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے‘‘ (فلاح) اپنے مطلوب کے حصول میں کامیابی اور خوف سے نجات کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلاح کو اہل ایمان میں محصور اور محدود کر دیا کیونکہ اہل ایمان کے راستے پر گامزن ہوئے بغیر فلاح کی منزل کو نہیں پایا جا سکتا۔ اس راستے کے سوا دیگر راستے بدبختی، ہلاکت اور خسارے کے راستے ہیں جو اپنے چلنے والوں کو ہلاکت کے گڑھوں میں جاگراتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے جہاں اہل ایمان کی حقیقی صفات بیان فرمائی ہیں وہاں رسول اللہﷺسے عناد رکھنے والے کھلے کافروں کی صفات کا ذکر بھی کر دیا۔