اور نہیں ہے اوپر نبی کے کوئی حرج اس بات میں جو فرض (مقدر) کر دی اللہ نے اس کے لیے، (یہ) طریقۂ الٰہی (رہا) ہے ان لوگوں(انبیاء) میں جو گزر گئے اس سے قبل اور ہے حکم اللہ کا اندازہ مقرر کیا ہوا (38)وہ لوگ (انبیاء) جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور وہ ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں وہ ڈرتے کسی سے بھی سوائے اللہ کے ، اور کافی ہے اللہ حساب لینے والا(39)
[38] یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ ﴾ ’’نبی پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ یعنی گناہ ﴿فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ﴾ ’’ان چیزوں میں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کثرت ازواج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لیے مباح کیا۔ ، اس لیے فرمایا:﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ١ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کا حکم ٹھہر چکا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔
[39] پھر ذکر فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں جن کی یہ عادت اور سنت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ يُبَلِّغُوۡنَ رِسٰؔلٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں۔‘‘ جو بندوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے دلائل و براہین کی تلاوت کرتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ﴿وَيَخۡشَوۡنَهٗ ﴾ وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا ﴾ ’’اور وہ (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘ یہ انبیائے معصومین کی سنت میں شامل ہے جنھوں نے اپنا وظیفہ ادا کر دیا اور اسے مکمل طور پر قائم کیا اور وہ وظیفہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا اور صرف اسی کی خشیت کی ترغیب دینا ہے جو ہر فعل مامور کو بجا لانے اور فعل محظور سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس میں کسی طرح بھی کوئی نقص نہیں۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا محاسبہ کرنے اور ان کے اعمال کی نگرانی کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح تمام انبیاء و مرسلین کی سنت ہے۔