Tafsir As-Saadi
33:40 - 33:40

نہیں ہیں محمد(ﷺ)باپ کسی کے تمھارے مردوں میں سے لیکن رسول ہیں اللہ کے اور خاتم ہیں نبیوں کے اور ہے اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا(40)

[40] نہیں ہیں رسول اللہ ﴿مُحَمَّدٌ﴾ حضرت محمدﷺ ﴿اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔‘‘ اس سے آپﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہw کا انتساب منقطع ہوگیا۔جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے، یعنی آپﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بیٹے کے باپ ہیں جبکہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں، اس لیے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ یہ آپ کا مرتبہ مطاع ومتبوع کا مرتبہ ہے آپ پر ایمان لانے والا آپ کی پیروی کرتا ہے، آپ کی محبت کو ہر کسی کی محبت پر مقدم کرتا ہے۔ آپ اہل ایمان کے خیر خواہ ہیں، اپنی خیر خواہی اور حسن سلوک کی بنا پر گویا آپ ان کے باپ ہیں۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی ذمہ داری کسے عطا کرے؟ کون اس کے فضل و کرم کا اہل اور کون اہل نہیں ہے؟