Tafsir As-Saadi
6:122 - 6:124

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124)

[122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔
[123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انھی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات و اقاویل کا جواب دیتے ہیں ، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انھیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کار فتح و نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔
[124] بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو‘‘ یعنی نبوت اور رسالت۔ یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خود پسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیا و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ ﴾ ’’اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں رکھے وہ اپنی پیغمبری‘‘ یعنی اللہ کے علم میں جو رسول بننے کا اہل ہے، جو رسالت کے بوجھ کو اٹھا سکتا ہے، جو ہر قسم کے خلق جمیل سے متصف اور ہر قسم کے گندے اخلاق سے مبرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اسے رسالت کا منصب عطا کرتا ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بہترین مواہب سے ہرگز نہیں نوازتا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک گردانا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ہر چند کہ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم، وسیع جود و کرم اور بہت فضل و احسان کا مالک ہے تاہم وہ حکیم بھی ہے اس لیے وہ اپنی بخشش سے صرف اس کو نوازتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرموں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں کو ذلت، اللہ کے ہاں ‘‘ یعنی اہانت اور ذلت۔ جیسے وہ حق کے ساتھ تکبر سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ﴿ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡؔكُرُوۡنَ﴾ ’’اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ ان کی چالبازیوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔